margala news shahzad bashir interview

Shahzad Bashir Author Exclusive Interview in Margala News Magazine August 2022

Interviews انٹرویوز Shahzad Bashir

Shahzad Bashir Author Exclusive Interview in Margala News Magazine August 2022 by Malik Nauman Hyder Haami.

Shahzad Bashir Author Exclusive Interview in Margala News Magazine August 2022

Today Weekly Magazine “Margala News” published an exclusive interview of “Shahzad Bashir” Author and Publisher of Kitab Dost group of websites. A rising talent Malik Nauman Hyder Haami was the interviewer who is the best columnist and kids literature writer and a very active social media personality on facebook.

Read Shahzad Bashir Author/Writer Interview below:

پڑھئے ہفت روزہ مارگلہ نیوز میگزین میں شہراد بشیر کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو : مارگلہ نیوز (اسلام آباد)
مہمان: ایڈونچر ناول نگار ” شہزاد بشیر “ کراچی
میزبان: نعمان حیدر حامی ، بھکر
شہرِ قائد کراچی سے تعلق رکھنے والی نامور ادبی شخصیت ” شہزاد بشیر “ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ایڈونچر ناول آپ کی ادبی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آپ ایک لمحے عرصے سے اپنے قلم کا جادو جگا کر خوب دلوں پر راج کر رہے ہیں۔ آیئے آپ کی ملاقات کرواتے ہیں۔
—————————————–
نعمان حیدر حامی: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.  پیارے بھائی شہزاد بشیر صاحب کیسے مزاج ہیں؟
شہزاد بشیر: الحمدللہ! خیریت سے ہوں امید ہے آپ بھی بخیریت ہونگے۔
نعمان حیدر حامی: سب سے پہلے آپ کا اصل نام کیا ہے ، اور آپ کا نام کس نے رکھا تھا؟
شہزاد بشیر: اصل نام “شہزاد بشیر” ہی ہے اور یہ نام میری بڑی بہن نے رکھا تھا۔
نعمان حیدر حامی: آپ کی عمر / تاریخ پیدائش کیا ہے؟
شہزاد بشیر: پندرہ جون انیس سو چھہتر تاریخ پیدائش ہے۔
نعمان حیدر حامی: لکھنے کا شوق کب سے ہوا تھا؟
شہزاد بشیر: لکھنے لکھانے کو میں دو ادوار تقسیم کرتا ہوں۔ ایک میرا بچپن کا دور یعنی 1983 سے 1992 تک کا جس میں پڑھنے کا جنون سوار تھا کہ لائبریری میں موجود کوئی 500 سے زائد ناول و کتب پڑھ ڈالیں۔ پھر 1988 سے لکھنے کا شوق ابھرا تو بچوں کے رسائل میں خطوط سے ابتدا کی اس کے بعد فکر معاش نے 1992 سے 2020 تک کا وقت ادبی زندگی سے حذف کر دیا۔ ویسے دیکھا جائے تو میں 2012 سے اپنے بلاگ کے ذریعے انگریزی آرٹیکلز تو 2020 تک لکھتا رہا ہوں مگر پھر اکتوبر 2020 میں جب کتاب دوست ڈوٹ کوم ویب سائٹ بنائی تب سے دوبارہ اردو ادب کی جانب رحجان بڑھ گیا اور اپ میرا کافی وقت پروفیشنل لائف سے ہٹ کر اردو ادب کیلئے لگ رہا ہے۔ محرک شروع میں تو شائد کوئی خاص وجہ سے تھا مگر بعد میں کچھ واقعات ایسے پیش آئے جس نے میری چیلنجنگ فطرت کو جگا دیا۔ یہی کام ساری زندگی کیا ہے کہ جہاں چیلنج ملا قبول کیا سو یہی محرک سمجھ لیں اور وہ اب آپ سب کے سامنے آبھی رہا ہے۔
نعمان حیدر حامی: آپ کی تعلیم کیا ہے اور پیشے سے متعلق ذرا تفصیل سے بتائیں؟
شہزاد بشیر: بی اے/ایم ۔ اے (پارٹ ون) شعبہ “بین الاقوامی تعلقات (I.R) ارادہ تھا کہ شعبہ بین الاقوامی” تعلقات میں “پی ایچ ڈی” کروں گا مگر زندگی کی بساط پر وقت نے ایسی چال چلی کہ ایم اے کے پیپر دیتے ہوئے ایگزام چھوڑ کر جاب انٹرویو کیلئے جانا پڑا۔ اپنی آپ بیتی “کایا پلٹ” میں اس کا احوال لکھ چکا ہوں۔ پیشہ تو نہیں پیشے پوچھئے گزشتہ گیارہ سال سے تو آنٹرپرنار Entrepreneur ہوں اسے سے پہلے لمبی لسٹ ہے: مختصراََ یہ کہ سیلز اینڈ مارکیٹنگ، ٹیچنگ، ایڈمنسٹریشن، پروجیکٹ پلاننگ، ڈیٹا ایڈمنسٹریشن، ویب ڈیویلپر، گرافکس اینڈ ملٹی میڈیا، بلاگنگ۔ کونٹنٹ رائٹنگ انگلش اردو۔ ٹیکنیکل سپورٹ ویب ہوسٹنگ، وغیرہ۔ اصل میں اپنی مرضی سے کوئی پیشہ اپنایا نہیں کیونکہ کوئی گائیڈ کرنے والا نہیں تھا تو خود سے ہی تجربات کرتا رہا۔ کسی پیشے میں میں فٹ نہیں ہوا اور کوئی پیشہ مجھے پسند نہیں آیا یا یوں کہہ لیں کہ وقت نے جدھر لے جانا چاہا، چل پڑا۔ اب گیارہ سال سے بہرحال آئی ٹی بزنس میں ہوں اور ساتھ ساتھ پچھلے دوسال سے اردو ادب میں بھی کچھ نہ کچھ کر رہا ہوں جو آپ کو نظر آرہا ہے۔ مطلب ناول نگاری، آن لان بک سیلنگ اور پبلشنگ وغیرہ۔
نعمان حیدر حامی: آپ کا بچپن کیسا گزرا؟
شہزاد بشیر: بچپن تو کھیلتے کودتے پڑھتے ہی گزرا مگر جب نو سال کا تھا تب میرے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوگیا تھا پھر بچپن جلدی گزر گیا اور گیارہ سال کی عمر سے پڑھائی کے ساتھ کام پہ بھی لگ گئے۔ مگر یہ ہے کہ سارے کھیل کھیلے جو پڑھنا چاہا پڑھا۔
نعمان حیدر حامی: آپ کا تعلق اور رہائش کہاں پہ ہے؟
شہزاد بشیر: تعلق بھی کراچی سے ہے اور رہائش بھی کراچی ہی میں ہے۔ ابو الحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال کے قریب رہائش پذیر ہوں۔
نعمان حیدر حامی: آپ کے پسندیدہ مشاغل کون کون سے ہیں؟
شہزاد بشیر: کتابیں پڑھنا اور گرافکس و ملٹی میڈیا ہی آجکل مشاغل ہیں کیونکہ زیادہ تر آن لائن ہی رہتاہوں۔
نعمان حیدر حامی: آپ کی مادری زبان کونسی ہے؟ کتنی زبانوں پر عبور حاصل ہے؟
شہزاد بشیر: مادری زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی بھی بولنے میں مشکل نہیں ہوتی۔
نعمان حیدر حامی: کچھ یاد ہے کہ پہلی تحریر کس عمر میں لکھی؟
شہزاد بشیر: لکھنا تو پہلے ہی شروع کر دیا تھا مگر رسائل میں لکھنا 1988 سے شروع کیا۔
نعمان حیدر حامی: ادب سے کس حد تک لگاو ہے؟
شہزاد بشیر: ادب سے لگاؤ تو بچپن سے ہی رہا مگر اب ادب میں عملی اقدامات کا موقع بھی مل گیا ہے اور اب یہ حال ہے کہ میں اپنی پروفیشنل لائف سے کاmargala news shahzad bashir interview بھی کافی وقت ادھر صرف کر رہا ہوں جس سے مالی طور پر کچھ نقصآنات بھی ہوئے ہیں مگر بہرحال ادبی سرگرمیوں میں آجکل سوشل میڈیا پر ایکٹو ہوں۔ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر جتنا ہوسکتا ہے اردو ادب کیلئے دے رہا ہوں۔ شروعات ایک ویب سائٹ کتاب دوست ڈوٹ کوم سے اکتوبر 2020 میں ہوئی پھر ناول لکھ ڈالے، اسکے بعد 1گست 2021 میں مختلف پبلشرز سے ڈیلر شپ لے کر ملک و بیرون ملک کتابوں کی ترسیل کا کام بھی شروع کیا اور اب الحمدللہ پبلشنگ ہاؤس “مکتبہ کتاب دوست” کی شروعات کی ہے جس سے میرے اپنے ناولوں کے علاوہ ابھی حال ہی میں “رضوان علی سومرو” اور” نوشاد عادل “کے ناول شائع ہوئے ہیں اور ساتھ ہی مجھے کچھ مزید پرخلوص نامور ادیبوں نے اپنی کتابوں کے لئے کہا ہے تو ان شاء اللہ پبلشنگ میں بھی آپ مجھ ایکٹو دیکھیں گے بلکہ نئے انداز اور طور طریقے بھی نظر آئیں گے۔
نعمان حیدر حامی: ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے اور اس صنف میں کس حد تک لکھا ہے؟
شہزاد بشیر: دیکھئے لکھنے لکھانے کی بات جب بھی آئے گی میں برملا فخر سے کہوں گا کہ میں دنیائے جاسوسی ادب کے عظیم ناول نگار جناب اشتیاق احمد (مرحوم) کا پراڈکٹ ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک لائبریری کی تقریباََ 700 سے زائد کتابیں مین نے پڑھ ڈالی تھیں بلکہ بہت ساری تو دو دو تین تین دفعہ پڑھ ڈالی تھیں اور لائبریری کے مالک نے ہاتھ جوڑ لئے تھے کہ بھئی اب کسی اور لائبریری کارخ کرو اور پھر اس نے بھیجا بھی تھا۔ پھر اشتیاق احمد کے جاسوسی ناولوں کے بعد صرف جاسوسی کی صنف ہی ایسی تھی جس پر لکھنے کا حوصلہ ہوا۔ مگر اب ایسا نہیں ہے کیونکہ ابھی حال ہی میں ایک منفرد انداز کا ناول “نکھٹو” شائع ہوا ہے وہ طنزو مزاح، رومانس پر مبنی معاشرتی اصلاحی ناول ہے اسی طرح کا ایک ناول “جواز” ہے یہ جاسوسی سے ہٹ کر ہیں۔ مگر بہرحال اب پہچان جاسوسی رائٹر سے ہی ہوتی ہے۔ اب تک 8 جاسوسی ایکشن ایڈونچر ناولز لکھ چکا ہوں جس میں ایک خاص نمبر بھی شامل ہے اور بہت جلد دوسرا خاص نمبر بھی آنے والا ہے۔
نعمان حیدر حامی: لکھنا خداد ہے یا باقائدہ سیکھا جاتا ہے؟
شہزاد بشیر: دیکھئے لکھنا تو سب کو آتا ہے مگر اس انداز مین لکھنا کو آپ کو مصنف کا درجہ دیا جائے یہ بنیادی طور پر تو ایک خداداد صلاحیت کہی جاسکتی ہے مگر اگرmargala news 20 Augus 2022 انسان میں یہ صلاحیت مخفی ہو یا دبی ہوئی ہو تو اسے سیکھ کر ابھارا جا سکتا ہے۔ میرے معاملے میں یہ ہوا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اندر ایک ناول نگار چھپا بیٹھا ہے جو اچانک سامنے آجائے گا۔ وہ یوں کہ جب اپنی ویب سائٹ کتاب دوست ڈوٹ کوم کیلئے ایک قسط وار کہانی لکھنا شروع کی تو وہ لکھتے لکھتے کب ایک باقاعدہ ناول کی شکل اختیار کر گئی یہ پتہ ہی نہ چلا۔ پھر اس کے بعد اس حیرت کو یقین میں بدلنے کیلئے ایک اور ناول لکھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ تو کوئی اور ہی شخصیت باہر نکل آئی ہے۔ وہ دونوں ناول “مشن پوائنٹ بلینک” اور ” وائلڈ لینڈ سے فرار” ہیں۔ پھر خود کو یقین دلانے کیلئے اشتیاق احمد کے انداز میں انسپکٹر جرار سیریز کا ناول “شعاعوں کا ہنگامہ” لکھا اور یہ تینوں ناول کتابی شکل میں شائع ہوئے تو یکے بعد دیگرے قارئین نے بے حد سراہے اور اب ایک بڑا حلقہ قارئین کا ایسا ہے جو مجھ سے لکھتے رہنے کا کہتے رہتے ہیں اور میں لکھ رہا ہوں۔
نعمان حیدر حامی: پسندیدہ ادبی شخصیت کون کون سی ہیں؟
شہزاد بشیر: پہلا نام تو بتا ہی چکا ہوں کہ “اشتیاق احمد (مرحوم)” ان کے بعد “نسیم حجازی” پسندیدہ رائٹر ہیں۔ شاعری میں “ڈاکٹر بشیر بدر” کا فین ہوں۔
نعمان حیدر حامی: آپ کی تربیت میں سب سے زیادہ ہاتھ کس کا ہے؟
شہزاد بشیر: ابتدائی طور پر فیملی کا، کچھ مخلص اساتذہ کا۔ پھر زمانے کا۔ کتابوں کا اور اپنے خود کے تجربات کا۔ اس حوالے سے میرا کہنا ہے۔
کسی کتاب سے کسی استاد سے نہ کسی انسان سے
آدمی سب سے جلد سبق سیکھتا ہے اپنے نقصان سے
نعمان حیدر حامی: مما بابا کیلئے کوئی ایک جملہ جس سے آپ کی محبت کا اظہار نظر آئے؟
شہزاد بشیر: “آج جو بھی ہوں والد کی خواہش اور والدہ کی دعاؤن کا نتیجہ ہے۔”
نعمان حیدر حامی: موجودہ عہد میں آپ کے پسندیدہ ادیب کون سے ہیں؟
شہزاد بشیر: حالیہ دور کے لکھنے والوں میں “تسنیم جعفری صاحبہ” نے بہت متاثر کیا ہے سائنس فکش کے حوالے سے۔ ان کی دس کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ مگر باقی ادیب بھی بہت اچھا لکھ رہے ہیں بہت سوں کو پڑھ چکا ہوں اور بہت سے ابھی باقی ہیں اسلئے اس وقت کسی کا نام نہیں لے سکوںگا۔
نعمان حیدر حامی: دوستی کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟
شہزاد بشیر: دوستی میں نظریہ نہیں ہوتا بے لوث ہونی چاہئے۔
نعمان حیدر حامی: آپ مستقبل میں ادب کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟
شہزاد بشیر: ظاہر ہے جو بھی ادب سے محبت اور لگاؤ رکھتا ہے وہ یہی چاہے گا کہ ادب اور ادیب کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔ ادب کا فروغ ہو اور نئی نسل مین بھی ادبی جراثیم سرائت کریں۔ ادب پھلے پھولے جیسے اور ممالک میں ہوتا ہے۔
نعمان حیدر حامی: ادب میں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا؟
شہزاد بشیر: حالیہ دور میں جب اردو ادب میں قدم رکھا تھا تو کوئی ایسی مشکل سامنے نہیں آئی تھی مگر اب اس سمندر میں جوں جوں آگے بڑھ رہاہوں یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ مشکلات بھی ہین۔ ان مشکلات کو ایک ایک کر کے ہم نے ختم تو کیا ہے مثلاََ ویب سائٹ سے ہیلپ لے کر، اپنی خود کی تحاریر، پھر اشاعت کیلئے اپنا پبلشنگ ہاؤس مگر اب بھی بڑی مشکل کاغذ کا بڑھتا ریٹ اور پرنٹنگ کے دیگر مسائل ہیں۔ ان کا بھی حل سوچ رہے ہیں۔
نعمان حیدر حامی: بچوں کے ادب کی حقیقی ترجمانی کس طرح ہوسکتی ہے؟
شہزاد بشیر: آج کل کے بچے کیونکہ ٹیکنالوجی کے زیادہ قریب ہیں تو اب وہ پرانا جنوں بھوتوں والا ادب تو انہیں متوجہ نہیں کرسکتا مگر ہاں سائنس فکشن کو شامل کرکے پرانے ادب کو بھی رینیو کیا جاسکتا ہے جو ہر عمر کے بچوں کو مدنظر رکھ کر لکھا جائے۔ دلچسپ مواد ضروری ہے چاہے پرانے دور کا ہو یا جدید دور کا۔
نعمان حیدر حامی: ایک سچے اور مخلص ادیب کی خصوصیات بیان کریں؟
شہزاد بشیر: ادیب ہوتا ہی وہ ہے جو سچا اور مخلص ہو۔ ادب میں سچائی اور اخلاص نہ ہو تو تحریر میں کوئی اثر نہیں آسکتا۔ جس طرح اسٹیج پر ایکٹر ایکٹنگ کرکے چلا جاتا ہے اسی طرح پھر کہانیاں لکھ کر بس جگہ جگہ چھپوالیجئے اور اپنے آپ کو ادیب مان کر خوش ہوتے رہئے۔ ادیب کی تحریر کا اثر قارئین پر ہوتا ہے تو وہ نظر بھی آتا ہے۔ ورنہ صرف کہانیون کی تعداد ہی بڑھتی ہے اور کوئی فائدہ نہیں۔
نعمان حیدر حامی: زندگی کیا ہے آپ کے خیال میں؟
شہزاد بشیر: زندگی موت کا احسان ہے بس اور کچھ نہیں۔ انسانی زندگی موت کی دی ہوئی مہلت ہے اب اس مہلت سے انسان فائدہ حاصل کرے یا نقصان یہ خود اس پر منحصر ہے۔
نعمان حیدر حامی: اگر ایک دن کے لیے آپکو اپنے ملک کی حکومت دے دی جائے تو آپ سب سے پہلا کیا کام کریں گے؟Shahzad Bashir interview in Adeeb Nagar Group
شہزاد بشیر: ہاہاہا۔۔۔ اچھا یہ سوال اپ نے بھی پوچھ لیا۔ اس سے پہلے ادیب نگر گروپ میں پوچھے گئے انٹرویو میں بھی یہ سوال شاید صرف مجھ سے پوچھا گیا تھا۔ تو جو جواب تب دیا تھا وہی اب بھی دیتا ہوں۔ ادب کیلئے تو حکومت ملے بغیر بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ کچھ معمولی کوششیں تو آپ کے سامنے ہیں میری۔ باقی اگر کبھی فرض کیا ایسا موقع مل گیا تو “ہر پاکستانی پر ہر ہفتے کم از کم ایک کتاب پڑھنے کا قانون لاگو کروں گا۔ تاکہ عوام میں کتاب دوستی پروان چڑھے۔ ادب اطفال کے ہر مصنف پبلشر پریس کیلئے ایک الگ وزارت جو صرف ادب اطفال کے معاملات دیکھے اور بچوں تک صحت مند مواد پہنچانے والوں کو عزت و اعلیٰ مقام دے۔”
نعمان حیدر حامی: زندگی کا کوئی تجربہ یا یادگار لمحہ بتائیں؟
شہزاد بشیر: یہ دونوں چیزیں میری زندگی میں بہت زیادہ ہیں. ایک یادگار واقعے پر تو آپ بیتی “سپرمین” لکھ چکا ہوں۔ اس کے علاوہ بے شمار ہیں۔ آپ بیتی کے چار سلسلے لکھ چکا ہوں۔
نعمان حیدر حامی: اچھا لکھنے کےلیے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
شہزاد بشیر: اچھا لکھنے کیلئے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ قارئین کون ہیں یا آپ کس کیلئے لکھ رہے ہیں کیونکہ ہوسکتا ہے ایک طبقہ فکر یا عمر کیلئے جو آپ کی بہترین تحریر ہو وہ بھی عام سی تحریر بن جائے۔ ویسے جنرلی کہا جائے تو اچھا مطالعہ مشاہدہ اور تخلیقی سوچ ہی اچھا مواد تخلیق کرواتے ہیں۔
نعمان حیدر حامی: فیس بکی دوستوں اور حقیقی زندگی کے دوستوں میں کیا فرق ہے؟
شہزاد بشیر: ہاہاہا۔۔ ہاں یہ بھی اچھا سوال ہے۔ میں چونکہ آن لائن پروفیشن میں ہوں تو زیادہ وقت آن لائن ہی رہتا ہوں۔ یعنی تقریباََ 16 سے 20 گھنٹے۔ اسلئے حقیقی زندگی کے دوست تو اب کبھی کبھار ہی ملتے ہیں۔ فیس بک پر یا انٹرنیٹ پر جو بھی دوستیاں ہوئی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ زیادہ پائیدار ہیں کیونکہ اس میں کسی کو کسی سے غرض نہیں۔ زیادہ تر اپنی حقیقی زندگی سے وقت نکال کر سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ یعی گاؤں کے چوپال کی طرح جہاں شامل ڈھلے لوگ ایک دوسرے سے ملا کرتے تھے اب یہی کام فیس بک پر ہو رہا ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ بہت جلدی بہت اچھے دوست بنے جن سے کسی قسم کے نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ورنہ حقیقی زندگی کے دوستوں نے چند ایک بار بیچ چوراہے پر بھی لا کھڑا کیا ہے اسلئے اب بہت احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔
نعمان حیدر حامی: ادب میں خریدوفروخت ، چور کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟
شہزاد بشیر: ادب میں خریدو فروخت یا چوری کا ابھی مجھے اتنا علم نہیں ہے کیونکہ میرا کسی سے واسطہ نہیں پڑا ہے۔ میں تو اپنی چار سیریز لکھ رہا ہوں اسلئے کسی اور جانب دھیان نہیں جاتا۔ ویسے کبھی کبھار پڑھنے دیکھنے میں آتا ہے کہ فلان نے فلان کا مواد کاپی کر لیا یا فلاں نے فلاں کی کہانی اپنےنام سے چھاپ دی وغیرہ مگر کچھ زیادہ واسطہ ابھی نہیں پڑا کسی سے۔ ویسے سیدھی بات یہی ہے کہ اپنا کام کاپی رائٹ کروالیں تو کسی کی ہمت نہیں ہوتی ہے چوری کرنے کی۔
نعمان حیدر حامی: آپ کے نزدیک غصہ کیا ہے اور شدید غصے میں آپ کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟
شہزاد بشیر: غصہ تو سبھی کو آتا ہے۔ مجھے بھی آتا ہے اور میں غصے کا اظہار بھی کر دیتا ہوں۔ اس سلسلے میں میں ایک اصطلاح استعمال کرتا ہوں “ون منٹ مینجر”۔ یعنی ایک منٹ میں اپنے غصے کا اظہار کرو اور پھر ٹھنڈے ہو جاؤ۔ اس پر پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔
نعمان حیدر حامی: کہاں جانے کےلیے ہر وقت تیار رہتے ہیں؟
شہزاد بشیر:سفرِ موت کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہوں۔
نعمان حیدر حامی: کیا موسیقی روح کی غذا ہے؟
شہزاد بشیر: ہاہاہا۔۔موسیقی روح کی غذا ہے تو پھر “روح کی شانتی” کیلئے میوزک کنسرٹ ہی کروانے جاہئیں۔ نہیں بھائی یہ کچھ زبردستی کے فقرے رٹا دیئے گئے ہیں جیسے کہ ایک ہے “محبت اور جنگ میں سب جائز ہے'” یہ دونوں ہی جملے غلط ہیں۔
نعمان حیدر حامی: آپ کی نظر میں کامیابی کیا ہے اور کامیابی کا راز کیا ہے؟
شہزاد بشیر: کامیابی صرف یہ ہے کہ مرتے وقت آپ کا دل مطمئن ہو چاہے پیسہ یا اعلیٰ منصب ہو یا نہ ہو۔ کروڑ پتی ارب پتی ہونا کوئی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ جو مطمئن ہو کر دنیا سے جانے کیلئے تیار ہو کہ خدا کو منہ دکھانا ہے مگر یہ اطمینان ہے کہ کچھ اتنا برا نہیں کیا کہ بخشش نہ ہوگی۔ وہی کامیابی ہے۔ کامیابی کا راز کوئی لگا بندھا طریقہ یا اصول نہین ہے۔ ہر انسان کامیابی کو اپنے انداز میں دیکھتا اور حاصل کرتا ہے۔ مگر ہاں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ۔ کامیابی کے راستے پر چلنا ہے تو نظر سامنے رکھئے۔ ادھر ادھر دیکھنے سے صرف حادثہ ہوتا ہے۔
نعمان حیدر حامی: آپ کی پسندیدہ شخصیت جن سے آپ کو ملنے کی خواہش ہو؟
شہزاد بشیر: پسندیدہ شخصیات اب نہیں رہیں اس لئے کوئی خواہش نہیں۔ پسندیدہ ادبی شخصیات کی بات ہے تو بہت سے احباب ہیں جن کا فرداََ فرداََ نام نہیں لے سکتا۔
نعمان حیدر حامی: کیا آپ کی کوئی تصنیف شائع ہوئی ہے؟
شہزاد بشیر: مشن پوائنٹ بلینک ۔ وائلڈ لینڈ سے فرار ۔ دراڑ مشن ۔ خاموش پکار ۔ لاوارث جرم ۔ سپر مین ۔ شعاعوں کا ہنگامہ ۔ کالی زبان۔ جواز ۔ نکھٹو ۔ ریت کی سلاخیں ۔ آٹو گراف کا قتل ۔ پہلا قدم ۔ اندھا فیصلہ ۔ کایا پلٹ۔ اور اگلے ماہ ایک بڑا ناول “مشن 4” آرہا ہے۔
نعمان حیدر حامی: اپنے عزازات کے بارے میں کچھ بتائیں بتائیں؟
1۔ کتابوں کو قارئین سے جدید انداز میں متعارف کروانے کا اعزاز
2۔ سوشل میڈیا کا بھرپور مثبت استعمال کتابوں کے فروغ کیلئے
3۔ نیو رائٹر سرچ پروگرام کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کر کے ان کے ناول شائع کئے۔
4۔ نئے رائٹرز کو گوگل اور سوشل میڈیا پر پروموٹ کرنے کا اعزاز
5۔ کتاب دوست کے پلیٹ فارم سے ملک و بیرون ملک کتابوں کی ترسیل۔ اگست 2021 سے فروری 2021 تک 1000 سے زائد کتابیں قارئین تک پہنچائیں۔
6۔ کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کتاب دوست کے لوگو کی برانڈنگ۔ کتاب دوست شرٹس اور کیپس کا استعمال پہلی بار شروع کیا۔
7۔ کتاب دوست آن لائن اسٹورز کے ذریعے ایک نئے جدید انداز کی بک سیلنگ تکنیک متعارف کروائی جسے اب اور لوگ بھی فالو کر رہے ہیں۔
8۔ ہر موصول ہونے والی کتاب پر بھرپور دلچسپ انداز کا تبصرہ کرنا جسے قارئین مزے لے کر پڑھتے ہیں اور کتاب سے متعارف ہوتےہیں۔
9۔ مشہور و معروف مصنفین کی کتابوں کی مارکیٹنگ اور سیلز کا اعزاز جن میں کاوش صدیقی، تسنیم جعفری۔ محبوب الٰہی مخمور، نوشاد عادل، محمد فہیم عالم، بالخصوص جناب اشتیاق احمد (مرحوم) وہ دیگر کئی نامور مصنفین۔
10۔ کتاب دوست کی قلم کتاب مارکیٹنگ و سیلز میں تیز رفتار کیمپیئن۔
11۔ دس سے زائد ناول اور 12 فری لانسنگ ای بکس (انگریزی)
12۔ پاکستان کے ٹآپ ڈومینر اور انٹرپرنار گزشتہ 11 سال سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔
آخری پر ہمارے قارئین کے نام کیا پیغام دیں گے؟
شہزاد بشیر: مصنفین کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو کتاب کا رشتہ عوام سے جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ کتابوں کو صرف پوسٹ لائک، کمنٹ اور شیئر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اچھی کتابیں اور خاص طور پر بچوںکی کتابیں خود منگوا کر بچوں کے ہاتھ میں دیجئے۔ تاکہ موبائل و کمپیوٹر کے ساتھ انہیں کتاب سے بھی لگاؤ ہو ورنہ وہ صرف ڈیجیٹل گیجٹس کے ساتھ جینا سیکھیں گے اور کتاب ان کیلئے محض کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں ہونگے۔

شہزاد بشیر کے ناول۔ مکتبہ کتاب دوست۔