boiling frog syndrome

Boiling Frog Syndrome : Pakistan Current Situation 2022

Column Kitab Dost Shahzad Bashir

Boiling Frog Syndrome :   Pakistan Current Situation 2022 resembles the the same phenomenon

Boiling Frog Syndrome :   Pakistan Current Situation 2022

 ابلتے مینڈک کی اصطلاح اور پاکستان کی موجود صورتحال: عوام “ایڈجسٹ“کر رہی ہے

بوائلنگ فراگ سنڈروم – آنکھیں کھول دینے والی حقیقت۔
بوائلنگ فراگ سنڈروم یا ابلتے مینڈک کی اصطلاح ایسے کام میں سستی یا ناکامی کو ظاہر کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے جس پر جان بچنے یا جانے کا دارومدار ہوتا ہے۔

فراگ سنڈروم ہے کیا؟ ایک بہت دلچسپ تجربہ کہ لیں۔جس کا نتیجہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ مگر تکلیف دہ ہے۔

“ابلتے مینڈک سنڈروم” کی اصطلاح ایک استعارہ ہے جو کسی مشکل صورتحال کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے

جو تباہ کن تناسب تک پہنچنے تک شدت میں بڑھ جاتی ہے۔

یہ تصور  ہے کہ بتدریج گرم کرنے والے پانی میں ڈوبا ہوا مینڈک اپنے حالات میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کرنے میں ناکام رہتاہے،

یہاں تک کہ اسے لفظی طور پر زندہ ابال دیا جاتا ہے۔

مثال سے سمجھاتا ہوں

اگر آپ کسی مینڈک کو ابلتے ہوئے پانی کے برتن میں ڈالیں تو وہ فوری طور پر چھلانگ مار کر باہر نکل جائے گا۔

لیکن اگر آپ اسے کسی ایسے برتن میں ڈال دیں جس میں صرف سادہ پانی ہو تو وہ باہر نہیں نکلے گا پانی میں ہی رہے گا۔

اب اگر آپ اس برتن کو چولہے پر رکھ کر نیچے آگ جلا لیں۔ تو پانی گرم ہونا شروع ہوجائے گا ۔

پانی بتدریج گرم ہوتا رہے گا لیکن مینڈک باہر نہیں کودے گا۔ حتیٰ کہ وہ زندہ ہی بوائل ہو جائے گا۔

سننے میں عجیب سا لگتا ہے مگر یہ حقیقت ہے ۔ اسی حقیقت کو بوائلنگ فراگ سنڈروم کہا جاتا ہے۔

 

اب سوال یہ ہے کہ مینڈک اپنی جان بچانے کیلئے برتن سے باہر کیوں نہیں نکلتا؟

جواب یہ ہے کہ مینڈک کو جب پانی میں رکھا جاتا ہے تو وہ اپنے جسم کا درجہ حرارت اس پانی کے حساب سے ایڈجسٹ کرلیتا ہے۔

یہ صلاحیت اسے قدرت کی جانب سے عطا کی گئی ہے ۔ اب اگر آپ اسے سادے پانی میں ڈالیں تو جو درجہ حرارت اس وقت پانی کا ہوگا مینڈک اس کے مطابق اپنے جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرے گا۔
اب آپ جب اس برتن کے نیچے آگ جلائیں تو پانی بتدریج گرم ہونا شروع ہوگا۔

مینڈک اپنے درجہ حرارت کو اس کے مطابق ایڈجسٹ کرتا رہے گا یہاں تک کہ پانی ابلنے لگے گا۔

اور مینڈک بھی اسی پانی میں زندہ ابل جائے گا۔ اور جان سے جائے گا۔

یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ تجربہ سے ثابت ہے۔

 

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مینڈک نے مرنے کے بجائے برتن کے باہر چھلانگ کیوں نہ لگا دی؟

جواب اس کا یہ ہے کہ جب مینڈک اپنا درجہ حرارت اس پانی کے درجہ حرارت سے میچ کرنے لگتا ہے تو اس کی توانائی یا طاقت بھی لگاتار کم ہوتی رہتی ہے۔ اس کا ادراک اس مینڈک کو نہیں ہوتا۔

یعنی جتنا وہ پانی کے درجہ حرارت کو برداشت کرتا ہے اتنی ہی اس کی توانائی بھی خرچ ہوتی رہتی ہے۔

اب ایک موقع ایسا آتا ہے کہ وہ کوشش کرتا ہے کہ چھلانگ مار کر باہر نکل جائے،مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

اور اس کے جسم میں اتنی توانائی ہی باقی نہیں رہتی کہ وہ برتن سے باہر کود کر اپنی جان بچا لے۔

اسی ناکامی یا وقت پر ایکشن نہ لینے اور ضرورت سے زیادہ برداشت کرکے جان گنوادینے کو ہی دراصل ”بوائلنگ فراگ سنڈروم“ کہتے ہیں۔

 

خلاصہ کرکے بتاﺅں تو یوں کہہ سکتے ہیں جب اس مینڈک کو اس برتن سے چھلانگ لگا کر جان بچانے کا وقت آتا ہے

تب بھی وہ برداشت کرکے کام چلا رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ اسے ایک خاص بوائلنگ پوائنٹ پر باہر کود جانا چاہئے۔

مگر وہ برداشت کرتا رہتا ہے یا کہہ لیں کہ “ایڈجسٹ” کرتا رہتا ہے۔

اور بالآخر اتنی دیر کر دیتا ہے کہ پھر خود ہی زندہ بوائل ہو جاتا ہے ۔

 

اب آجائیں کہ میں نے یہ پوسٹ اس وقت کیوں کی ہے؟

اس وقت پاکستانی عوام بھی فراگ سنڈروم کا شکار نظر آرہی ہے۔

حکومت اس وقت بری طرح ناکام ہوچکی ہے اورصرف یہی حکومت نہیں بلکہ پہلے آنے والی تمام حکومتیں مکمل ناکام رہیں ۔

میں اس بحث میں نہیں جاتا کہ کیا کھویا کیا پایا؟ کیا لگایااور کیا کھایا؟ میں تو یہ جانتا ہوں کہ عوام کو کسی نے کچھ نہیں دیا۔ 

عوام انیس سو سینتالیس سے صرف برداشت کرتی آرہی ہے ۔

مسائل اب اس ابلتے کھولتے پانی کی طرح ہوچکے ہیں جو عوام کو زندہ ابال رہے ہیں یا کچھ گنجائش کرلیں تو ابالنے والے ہیں۔

حالیہ سیلاب اور حکمرانوں کی ڈراما بازیاں اور اوور ایکٹنگ ،

اپوزیشن کی اچھل کود اور شور شرابا،

عوام کے تین فرقے ، یوتھیا ، نونیا، جیالا،

سرکاری اداروں کی عروج پر پہنچی رشوت اور کرپشن کی داستانیں ،

یہ سب وہ کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ہے جس میں عوام صرف اس مینڈک کی طرح برداشت سے کام چلا رہی ہے۔

 

نہیں یقین آیا تو سنئے

پانی کھولتا جا رہا ہے، درجہ حرارت ناقابل برداشت ہو رہا ہے مگر عوام ”ایڈجسٹ“ کر رہی ہے۔

بجلی نہیں ہے مگر بل اور وہ بھی اصل  بل سے چار گنا ۔ سائل سے بدمعاشی، دھمکیاں ، ذلت دینا۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

پٹرول پوری دنیا میں سستا ہو چکا۔ پاکستان میں مزید مہنگا ہورہا ہے۔ مہنگائی سے عوام خودکشی پر مجبور۔مگر۔۔۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے

سڑکوں کی حالت ایسے کہ  چاند کے گڑھوں کی طرح دکھنے والی سڑکیں۔ حادثات، اموات۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

باواآدم کے زمانے کی کسی سوسالہ بوڑھے کی کمر کی طرح جھکی ہوئی بسیں۔ بد ترین ٹریفک جام۔عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

پرائیویٹ ہسپتالوں میں زبردستی پہلی ڈیلیوری پر ماﺅں کے آپریشن، جعلی مہنگی دوائیں، ڈاکٹروں کی لوٹ مار۔عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

سرکاری ہسپتالوں کے دھکے، ذلالت گالیاں،دواﺅں کی قلت، دواﺅں کی چوری چھپے فروخت۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے ۔

کورٹ کچہریوں میں مقدمات کی لمبی لمبی تاریخیں، انصاف کی فروخت، لوگوں کی پائی پائی حتیٰ کے کپڑے تک نوچ لینے والا نظام۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی غفلت ، کرپشن، بلڈنگوں کا گرنا ، لوگوں کا زندہ دفن ہونا۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

تعلیمی نظم کی بد ترین ، بدترین سے بھی زیادہ بری حالت، نقل، جعلی اسناد، جعلی بھرتیاں، جعلی اساتذہ، پرائیویٹ اسکولوں کی من مانیاں ، نئی نسل کو جاہل بنانے والی کتب، نوکری کی ریس۔ مگر۔۔۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔


دن دہاڑے اسٹریٹ کرائمز، ماؤں بہنوں کے پرس، بزرگوں کی پنشن، نوجوانوں کے موبائل، قتل، اغوا۔۔۔۔لیکن عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔


ہر دوسرے دن پھول سے بچوں کا اغوا، ریپ، ٹارچر،فروخت،اسمگلنگ، خودکشیاں،۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔


مہنگی تعلیم، جعلی ڈگریاں، کوٹہ سسٹم،بدترین مایوسی، نوجوانوں کی اداسی، ڈیلیوری بوائز کی پٹرول کیلئے لمبی قطاریں، لوٹ مار، موٹر سائیکل، موبائل چھینا چھپٹی، عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔ 

کراچی میں غیر مقامی ڈاکوﺅں ، لٹیروں کی کاروائیاں ، تھانوں میں غیر مقامی پولیس کے مک مکے، ٹریفک پولیس کی لوٹ مار۔ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

ساری ساری رات مچھروں سے لڑتی عوام، رات رات بھر بجلی کے محکمے کے” آن آف ۔ آن آف“ بجلی کے کھیل تماشے، بجلی نہ دیکر راتوں کا عذاب دینے کے منہ مانگے پیسے لینا اور بل نہ بھرنے پر جیل بھیجنے کی دھمکیاں، بے عزتی، رسوائی، عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

پرائس کنٹرول محکمے کی بدترین غفلت، رشوت خوری،تاجروں، آڑھتیوں کی من مانی قیمتیں بڑھا کر دو وقت کی روٹی چھین لینا، عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

پچاس سال کی گیس موجود ہونے کے دعوے، گھروں میں گیس کے بجائےصرف ہوادیتے چولہے، گیس لوڈشیڈنگ، روٹیوں کیلئے تندوروں پر لمبی قطاریں، عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

پیسے والے لوگوں کی پاک دھرتی کو چھوڑ کر جانے کی قطاریں ، مایوسیوں کے گہرے بادل، امید کی غائب ہوتی کرنیں، عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

برین ڈرین کے ذریعے ملک کے ٹیلنٹ کا باہر نکلنا، ماﺅں بہنوں بیٹیوں کے زیوروں کا بکنا، جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہوتی خواتین کے سر کی چاندی،علما ءکی خاموشی، عوام کو مرتا دیکھنااور کچھ نہ کہنا، عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے۔

عوام اس مینڈک کی طرح آخر ایڈجسٹ کیوں کر رہی ہے؟

چھلانگ کیوں نہیں لگاتی، برتن سے باہر کیوں نہیں نکلتی؟

یہ سوالات جواب طلب ہیں جن کے جوابات عوام کو معلوم بھی ہیں اور ابھی ان کے بس میں بھی ۔

عوام کے پاس طاقت ہے ۔ اپنی طاقت سے باہر کود جانے کا ابھی موقع بھی۔

مگر کیا کریں ۔۔کیا کریں۔۔ کیا کریں ۔

.کہ عوام ایڈجسٹ کر رہی ہے…

 

عوام کو ایک ہو کر سوچنا ہوگا۔ آپس کی یوتھیا، نونیا، جیالا وغیرہ کی فرقہ بازی سے باہر آکر سوچنا ہوگا۔ قوم بننا ہوگا۔ طاقت تبھی ملے گی۔ وہ

طاقت جس سے اس ابلتے ہوئے گندے بدبودار نظام کے پانی سے باہر چھلانگ لگا سکے۔

اور یہ جلدی کرنا ہو گا۔ کہیں بہت دیر نہ ہوجائے اور عوام اس مینڈک کی طرح زندہ نہ ابل جائے۔ 

Shahzad Bashir
Author/Blogger/Publisher

CEO & Founder: KitabDost.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *