جاسوسی ناول نگاری

جاسوسی ناول نگاری کا تعارف : شہزاد بشیر کالم

Column Kitab Dost Shahzad Bashir

“جاسوسی ناول نگاری : کیا – کیوں – کیسے؟ ایک تعارف” شہزاد بشیر کالم پڑھئے ۔

★ اکثر قارئین کو یہ تجسس ہوتا ہے کہ میں جاسوسی ناول کس طرح سے لکھتا ہوں۔ اور یہ بالکل فطری تجسس ہے کیونکہ یہی سوال بچپن سے خود میرے ذہن میں رہا کہ مشہور و معروف جاسوسی مصنفین ابن صفی اور اشتیاق احمد سمیت دیگر نامور ادباء کیسے جاسوسی ناول لکھتے ہونگے۔ کیونکہ کہنے کو تو کوئی بھی جاسوسی ناول نگار بن سکتا ہے مگر اسے ثابت کرنا اور وہ بھی قارئین کی رائے سے منوانا ہی اصل جاسوسی ناول نگاری کی دلیل ہے۔ دراصل جاسوسی پڑھنے والوں کا مزاج الگ ہی ہوتا ہے۔ فوراََ ہی پہچان جاتے ہیں۔ مجھے اکثر نئے لکھاری اپنی جاسوسی تحاریر بھیجتے رہتے ہیں۔ ان تحاریر میں جو ایک جیز دیکھتے ہیں اندازہ ہوجاتا ہے وہ ہے جاسوسی حوالے سے معلومات و تحقیق کی کمی۔ اب اس پوسٹ سے انہیں مدد مل سکتی ہے۔ ویسے تو میں خود ابھی طفلِ مکتب ہوں اس صنف میں لیکن ان پانچ سالوں میں اب تک ساٹھ ناولز لکھ کر جو کچھ سیکھ سکا ہوں اس کے مطابق رہنمائی کی کوشش کروں گا اگر قارئین پسند کریں گے تو یہ سلسلہ آگے چل سکے گا۔

★ جاسوسی صنف میں بھی مختلف جہتیں جیسے کہ بین الاقوامی سازشیں، بین الاقوامی تنظیموں کے مشنز پر، یا اندرون ملک سازشیں، ان کا سراغ اور آپریشنز، اس کے علاوہ مرڈر مسٹریز، ہائی پروفائل کیسز، کورٹ روم کیسز، پولیس فائلز، انفرادی جاسوسی وغیرہ یعنی جو عامل عوامی مسائل اور کرائم کے حوالے سے ہیں۔ مگر ابھی ایک عمومی تعارفی تحریر پیش کر رہا ہوں۔ اگر قارئین کو پسند آیا تو اس کالم کے مزید حصے الگ الگ موضوعات اور جاسوسی ناول نگاری کے لوازمات پر لکھنے کی کوشش کروں گا۔

“نوٹ: ناول نگاری کے حوالے سے میری ایک کتاب “ناول نگاری سیکھئے” گزشتہ سال سے التوا میں ہے جسے مکمل کر رہا ہوں اور نئے سال میں پیش کروں گا ان شاء اللہ۔ جو دوست دلچسپی رکھتے ہیں وہ بکنگ کروا سکتے ہیں کیونکہ محدود کاپیاں ہی شائع ہونگی۔ اب چلئے اپنے موضوع کی جانب۔”

★ جاسوسی ناول نگاری میں کچھ نیا منفرد لکھنا ہی قاری کو آپ کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ میری چار جاسوسی سیریز ہیں جن میں سے دو سیریز “انسپکٹر جرار سیریز اور ڈی ایس پی طاہر سیریز” خالص جرائم کا سراغ اور اس کے منطقی انجام کے حوالے سے پولیس تفتیش، کورٹ روم مقدمات اور جدید گیجٹس کی مدد سے مجرم پکڑنے اور پورے کیس کو پبلک کے سامنے کھول کر بیان کرنے سے متعلق ہیں۔ جبکہ “ردوان سیریز” بین الاقوامی سازشوں اور تنظیموں کے تناظر میں ایک جانباز فیملی کے کارناموں پر مشتمل ہے۔ چوتھی جاسوسی “وکی مونا سیریز” ان سب سے مختلف ہے جو مغربی ماحول میں مشرقی کرداروں کے حوالے سے لکھی گئی ہے اس کے مرکزی کردار ایک باکسر وکی اور ایک راک کلائمر لڑکی مونا ہیں۔

★ تقابلی جائزہ لیں تو جاسوسی ذرا مشکل صنف اس لئے ہے کیونکہ اس میں منطق اور دلائل اور درست معلومات سے قاری کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔ اس کے برعکس آپ اگر جادوئی یا پراسرار و خوفناک ناول یا کہانی کی بات کریں تو اس میں منطق یا لوجک بنیادی چیز نہیں اور آپ اس میں کچھ بھی لکھ سکتے جیسے عین وقت پر کوئی ظاہر ہوگیا، یا جادو سے یہ ہوگیا یا کسی نادیدہ وجود نے ایسا کام کیا کہ معاملہ یا حالات یا کیس ہی ختم ہو گیا۔ آپ کو اس منطق کو ثابت نہیں کرنا ہوتا بلکہ قاری کا ذہن پہلے ہی جادو، غیبی مدد، کسی چیز کی کرامت یا میجیکل سکِل کی باتوں کو قبول کر چکا ہوتا ہے جب کہ جاسوسی تحریر میں ایسا نہیں ہوتا۔

★ خالص جاسوسی تحریر جیسے جرم کا ہونا، پھر سراغ لگانا، پھر اس کی تفتیش سے مجرم کا اندازہ لگانا اور پھر مجرم کے خلاف ثبوت پیش کرنا اور اس انداز میں کلائمکس پر پورا کیس پیش کرنا کہ گویا ایک پزل کی طرح ناول بکھری ہوئی کہانی ایک فریم میں فٹ ہوجائے تو قاری اسے ہی بہترین جاسوسی ناول کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

★ آسان الفاظ میں کہوں تو ایک کہانی شروع سے آخر تک سوچنا پھر اس کو اس طرح پزل کے انداز میں ٹکڑے کرکے بکھیرنا کہ پڑھنے والے کا تجسس ابھرتا ہی جائے کہ اگلا ٹکڑا کہاں ملے گا اور کیسے فٹ ہوگا اور یہ تجسس اس کی بے چینی اور شوق مطالعہ کو بڑھانے کے ساتھ اس کے دماغ کی ورزش کروا دے اور جب اس کے سامنے کہانی کے تمام پزل پیس ایک فریم میں جوڑ کر پورے کیس کی کہانی بتائی جائے تو وہ نہ صرف اس کی ذہنی دلچسپی، تجسس کو مکمل کرے بلکہ تشفی کے ساتھ اس کو معلومات بھی پہنچائے اور اسے لگے کہ اس نے ناول پڑھ کر پیسے ضائع نہیں کئے نہ وقت ضائع کیا بلکہ کچھ نیا سیکھا ہے اور پڑھا ہے۔

★ میری یہ پوسٹ ان نئے لکھنے والوں کیلئے ایک تعارف ہو سکتی ہے کہ آپ اگر جاسوسی لکھنا چاہتے ہیں تو اس کا فارمولا یہی ہے کہ پہلے کہانی کو تخلیق کریں اس کے پلاٹ پر غور کریں اور لاجک یعنی منطق کے مطابق جرم و تفتیش اور پھر کلائمکس لکھیں۔

★ کردار نگاری جاسوسی ناول کا سب سے اہم ترین جزو ہے۔ پھر مکالمے اور منظرنگاری سے جان ڈالی جاتی ہے۔ اور آخر میں اگر آپ پوری کہانی کے پزل پیسز کو جوڑ کر اپنی کہانی کو مکمل کرتے ہیں تو سمجھ لیجئے ایک بہترین ناول آپ نے تخلیق کرلیا۔ اسے اپنے دوستوں اور اپنے سوشل سرکل میں پیش کیجئے۔ کوئی اصلاح کی غرض سے کچھ بتاتا ہے تو سنجیدگی سے اس پر غور کیجئے اگر واقعی لگتا ہے کہ کچھ گنجائش ہے تو اس پر نظر ثانی کیجئے پھر کسی اچھے جاسوسی گروپ میں پوسٹ کردیجئے تاکہ آپ کا قارئین کا سرکل بنے۔ اس پر تبصرے کرنے والوں سے اپنا تعلق بنائیے۔ یاد رکھئے کہ آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک قاری ملے گا جو یوں سمجھ لیجئے کہ جاسوسی کو گھول کر پئے بیٹھے ہیں۔

★ آپ کا مقابلہ کسی جاسوسی ناول نگار سے پہلے اس “ایلیٹ کلاس جاسوسی ریڈرز سرکل” سے ہوگا جو گھاٹ گھاٹ کا جاسوسی ناول پڑھ چکے ہونگے۔ وہ صرف واہ واہ نہیں کریں گے بلکہ آپ کے ناول کا پوسٹ مارٹم بھی کرسکتے ہیں لیکن یہی وہ طبقہ ہے جو اصل میں جاسوسی ناول اور جاسوسی مصنف کو پہچانتا ہے اور نمبر دیتا ہے کہ آپ کس پائے کے لکھاری ہیں۔ میں کئی ایسے زبردست قارئین کو جانتا ہوں اور ان سے داد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے واقعی کچھ اچھا لکھا ہے۔

★ بہرحال یہ صنف ایسی ہی ہے اور اس میں آپ اگر جاسوسی ناولوں کا مطالعہ نہیں کرتے رہے اور جرائم کی معلومات یا جدید دور کے جرائم و تفتیش اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحقیق نہیں کرتے تو پھر جاسوسی فیلڈ میں قدم جمانا مشکل ہوسکتا ہے۔ تحقیق اس صنف کا بنیادی ستون ہے۔ آپ یونہی کوئی کہانی شروع نہیں کرسکتے یا کسی جرم کا احوال لکھ کر اپنے کردار سے تفتیش شروع نہیں کروا سکتے جب تک آپ کے ذہن میں اس کا کلائمکس نہ ہو یہی وجہ ہے کہ لکھنا تو آسان لگتا ہے مگر بعد میں لکھاری کہانی کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور کسی طرح ختم کرنے کی کوشش میں کہانی کچھ کی کچھ ہو جاتی ہے۔

★ کوشش کریں کہ کہانی کا خاکہ سوچ سمجھ کر لکھیں، پلاٹ مضبوط ہو، کردار نگاری پر پورا فوکس کریں، جرم اور اس سے جڑے اسباب اور پھر تفتیش اور اس سے متعلق طریقہ کار پر اچھا گہرا مطالعہ ہو۔ خود میں انٹرنیٹ کے علاوہ کتابوں سے مدد لیتا ہوں۔ جن میں ایسی دلچسپ معلومات ہیں کہ آپ اس کو پڑھ کر ہی کوئی موضوع ذہن میں سوچ کر ناول کی کہانی بن سکتے ہیں مگر اس کے لئے لکھنے کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔

★ سرپرائزز کسی بھی جاسوسی ناول میں لازمی ہوتے ہیں یعنی چیپٹر یا سین اگر کٹ ہورہا ہے تو ایسے انداز میں کہ قاری بیخود ہو کر اگلے چیپٹر کا صفحہ پلٹنے یا اگلا حصہ پڑھنے پر مجبور ہو۔ سراپرائزنگ ایلیمنٹ ہی لکھاری کی صلاحیت کا بلند خاکہ بناتی ہے۔ اگر سیدھا جاسوسی ناول لکھ دیا جائے جس میں بس جرم اور اس کے پیچھے کارروائی اور پھر مجرم کی گرفتاری دکھا دی تو وہ ایک عام سی کہانی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔

★ یہ پوسٹ ان قارئین کے لئے ہے جو جاسوسی صنف کو سمجھنا چاہتے ہیں چاہے قاری کے طور پر ہی سہی کہ وہ اگر پہلے دوسری اصناف میں دلچسپی رکھتے ہوں تو اب اس طرف آئیں یا پھر وہ لکھاری جو لکھنا چاہتے ہیں یا لکھ رہے ہیں مگر کچھ اور بھی سیکھنا چاہتے ہیں۔

★ یاد رکھئے میں بھی طفل مکتب ہوں اور ابھی صرف پچاس کے قریب جاسوسی ناول لکھ سکا ہوں اور جو میں نے اب تک چار مختلف جاسوسی سیریز اور موضوعات پر ناول لکھ کر سیکھا ہے اس کے مطابق اپنا تجزیہ پیش کردیا۔

اگر آپ کو یہ کالم پسند آیا اور کچھ سیکھنے کو ملا اور کوئی خیال یا سوال ذہن میں ابھرا ہو تو کمنٹ کرکے رائے دیجئے گا۔ تحریر پڑھنے کا شکریہ۔

تحریر : شہزاد بشیر
جاسوسی ناول نگار

میرا ادبی تعارف اور ناولوں کی تفصیل پڑھنے کیلئے ویب سائٹ وزٹ کیجئے۔
میرے 60+ ناولوں کا مکمل کلیکشن دیکھئے:


Advertise

اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولزNimra Ahmed Novels عمیرہ احمد کے ناولزUmera Ahmed Novels اشتیاق احمد کے ناولزIshtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریزImran Seriesدیوتا سیریزDevta Seriesانسپکٹر جمشید سیریزInspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولزشہزاد بشیر کے ناولزShahzad Bashir Novelsنسیم حجازی کے ناولزNaseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine.You can support this website to grow and provide more stuff ! Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon