award dispute

کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ  کے تنازعہ کا منطقی نتیجہ

Uncategorized

کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ  کے تنازعہ کا منطقی نتیجہ

خودساختہ ایوارڈ تنازعہ: منطقی نتیجہ پیش ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں ایسی مثال اس سے پہلے شاید ہی کہیں دیکھنے میں آئی ہو یہ لاپروائی اور غفلت کی  ایک “عظیم مثال” ہوگی اور الحمدللہ ہمیشہ کی طرح کتاب دوست کے حوالے سے یاد بھی رکھیں گے۔
 کتاب دوست رائٹرز  ایوارڈ  2024سے متعلق ایک لکھاری کی پوسٹ اور اس پر کئے گئے کمنٹس کے حوالے سے جو کچھ اس ہفتے (9 نومبر تا 14 نومبر) ہوا وہ قارئین کے علم میں ہے۔سوشل میڈیا پر  ایوارڈ یافتہ مصنفین کے بارے میں نامناسب پوسٹ اور پھر کمنٹس کئے گئے۔ادارے کے بانی کے بارے میں نامناسب باتیں لکھی گئیں  اور ایوارڈ کی شفافیت پر نکتہ چینی کی گئی جو بے بنیاد اور بلاجواز تھی۔ 
میں نے بحیثیت ایک مصنف ایک استاد، ایک ادارے کا بانی اور ایک ذمہ دار رائٹرز ایوارڈ ایونٹ کا جج ہونے کے، صاحب پوسٹ سے دو بار موقع دے کر درخواست کی کہ آپ کے ان الزامات سے ادارے
کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور ایوارڈ یافتہ مصنفین کی بھی دل آزاری ہوتی ہے لہٰذا اس پوسٹ کو ہٹادیا جائے مگر وہ اس بات کو سنجیدگی سے نہ لے سکے اور اپنے موقف پر قائم رہے۔ 
award dispute
اس صورتحال میں مجھے خود کل رات اس سارے معاملے کی چھان بین کرنا پڑی کہ آخر کس بنیاد پر یہ صاحب پوسٹ ایک ایسے لکھاری کو ایوارڈ نہ دیئے جانے پر سراپا احتجاج ہیں جس کا ایوارڈ بنتا ہی نہیں۔
جی ہاں قارئین آپ کو یہ جان کو حیرانی ہوگی جیسے کل رات میں خود حیران پریشان رہ گیا کہ جس بنیاد پر دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ بنیاد ہی غلط ہے۔ اور محض ایک غلط فہمی پر اتنا سب کچھ ہوا۔ جس کو اگر صاحب پوسٹ یا وہ صاحب جن کے حوالے سے انہوں نے پوسٹ کی وہ پہلے ہی چیک کرلیتے تو اس کی نوبت ہی نہ آتی۔
خیر اللہ جو کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے۔
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ –
چنانچہ اب عزت و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس تنازے کا جواب اور اپنا اور اپنے ادارے کا ردعمل یہاں پیش کر رہا ہوں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس سارے تنازعے کو ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ انداز اور باوقار انداز میں منطقی نتیجے تک پہنچایا جائے بنا کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے۔ پیش خدمت ہے ادارے کی جانب سے مفصل جواب اور آخر میں ادارے کا حتمی فیصلہ ضرور پڑھئے گا۔ اللہ ہمیں انصاف کے ساتھ حق ادا کرنے والا بنائے۔ آمین۔
——–

 ڈسکلیمر (ادارہ :مکتبہ کتاب دوست)

 یہ وضاحتی تحریر فیس بُک پر کی گئی اُس پوسٹ کے جواب میں پیش کی جا رہی ہے، جس میں بظاہر عمومی طور پر ایک ایوارڈ کے معاملے پر بات کی گئی، مگر اس کے متن اور اس پر کیے گئے کمنٹس میں واضح طور پر مکتبہ کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ 2024 کا ذکر موجود ہے۔ اس وجہ سے ادارے کے قارئین اور مصنفین میں پیدا ہونے والی تشویش کے ازالے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔ ادارے کا مقصد کسی فرد یا گروہ کی مخالفت نہیں بلکہ غلط فہمی کی اصلاح اور اپنی ساکھ کا تحفظ ہے۔ شکریہ۔

  ۔9  نومبر کو محترم ریحان خان صاحب کی جانب سے کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ 2024 کے حوالے سے ایک پوسٹ کی گئی، جس میں ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ ان کے دوست محترم بلال صادق صاحب کو ادارے نے ایوارڈ نہیں دیا، اور اس بنیاد پر ایوارڈ کی شفافیت پر سوال اٹھائے گئے۔

award dispute

پوسٹ کے متن اور چند کمنٹس میں بعض ایوارڈ یافتہ مصنفین کے بارے میں بھی نامناسب جملے ظاہر ہوئے، جس سے مزید غلط فہمی پیدا ہوئی۔

award dispute

 

پوسٹ کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بلال صادق صاحب کے ناول کو ایوارڈ ملنا چاہیے تھا۔
یہاں اصل حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:

بلال صادق صاحب کا ناول “سازش کا قتل” دسمبر 2024 نہیں بلکہ “9 جنوری 2025” کو شائع ہوا تھا۔

یہ تاریخ ناول کے اندرونی صفحے پر موجود ہے اور ہر وہ قاری جس کے پاس یہ ناول ہے، بذاتِ خود اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔

 قارئین کی سہولت کے لیے ناول “سازش کا قتل” کے اس صفحے کا عکس بھی اس پوسٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جس واضح تاریخ اشاعت 2025 لکھی ہے۔ جب کہ ریحان خان کے پروفائل پر اس پوسٹ میں لکھا گیا “دسمبر 2024” واضح ہے جو کہ درست نہیں۔ تصویر ملاحظہ کیجئے۔

award dispute
 ساتھ ہی 9 جنوری 2025 کو شہزاد بشیر کے پرسنل پروفائل میں اس ناول سمیت 4 اور ناول ملا کر کل 5 ناولوں کی اشاعت کا اعلان ایک تشہیری پوسٹ میں کیا گیا تھا۔ اس کا عکس شہزاد بشیر کے پروفائل سے لے کر منسلک کیاگیا ہے۔

award dispute

 9 ۔9نو جنوری کو ہی خود مصنف بلال صادق نے بھی اپنے فیس بک پروفائل میں وہ پوسٹ شیئر کی تھی جس میں “جنوری کے 5 ناول” صاف لکھا ہوا ہے اور ان پانچوں میں “سازش کا قتل” کا سرورق بھی شامل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ناول دراصل جنوری 2025 میں شائع ہوا تھا۔

award dispute

 چونکہ مکتبہ کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ 2024 صرف 2022 تا 2024 کے دوران شائع ہونے والی کتابوں کے لیے مخصوص تھا، اس لیے 2025 میں شائع ہونے والی کوئی بھی کتاب اس فہرست میں شامل نہیں ہو سکتی۔
لہٰذا بلال صادق صاحب کے ناول کا اس سال کے ایوارڈ میں شامل نہ ہونا ایک منطقی اور طے شدہ بات تھی۔

پوسٹ میں اشاعت کی غلط تاریخ لکھے جانے کی وجہ سے قارئین میں غیر ضروری غلط فہمی پیدا ہوئی، اور چند احباب نے اس معلومات کو درست سمجھے بغیر اپنے جذباتی کمنٹس لکھے، یہ صورتِ حال غالباً تاریخ کی غلطی کے باعث پیدا ہوئی، جس سے غیر ارادی طور پر غلط فہمی پھیلی۔

 مکتبہ کتاب دوست ہمیشہ اپنے پرانے اور نئے مصنفین کا احترام کرتا ہے، اور ہر اس غلط فہمی کی وضاحت کو ضروری سمجھتا ہے جس سے ادارے یا ادب کی فضاء متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔
ایوارڈز سو فیصد میرٹ، معیار اور مقررہ کرائٹیریا کے مطابق دیے گئے ہیں، اور آئندہ سال بھی یہی اصول اختیار کیا جائے گا۔

یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ بلال صادق اور ریحان خان، دونوں محترم احباب کو ان کے ناولوں کے مسودے اشاعت کے کچھ عرصے بعد باقاعدہ واپس کر دیے گئے تھے، جس کے بعد ان کے ناولوں کے حقوق اور ان کی اشاعت کے معاملات ان کے اپنے ہو چکے ہیں۔ ادارہ اس معاملے میں اب کسی قسم کا شراکت دار نہیں۔

 امید ہے کہ یہ وضاحت تمام قارئین اور مصنفین کے لیے کافی ہوگی۔

 چونکہ اس غلط فہمی اور غیر مصدقہ باتوں کی وجہ سے ادارے کی ساکھ اور بانی مصنف کی ذات پر اثر پڑا، دکھ کی گھڑی میں ادارے اور وابستہ افراد کے لیے یہ صورتِ حال باعثِ تشویش رہی، مخلص اور محبت کرنے والے قارئین بھی پریشان رہے۔ لہٰذا اب آئندہ کے لیے ادارہ متعلقہ مصنفین اور قارئین کے ساتھ اپنے ذاتی و اداراتی روابط اور تعلقات کے معاملات پر نظرِ ثانی کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ اس پوسٹ کا مقصد غلطیوں کی نشاندہی اور تصحیح اور حقائق پیش کرنا ہے تاکہ قارئین و مصنفین کو درست معلومات ہوں اور ایوارڈ یا ادارے سے متعلق شفافیت پر سوالات کے جواب مل سکیں۔ یہ دونوں صاحبان اور دیگر لکھاری قابل احترام ہیں اور ہم دعا گو ہیں کہ مستقبل میں کامیاب رہیں اور ادبی کارواں چلتا رہے۔

قارئین کی دلچسپی اور وقت دینے کا بہت شکریہ۔

نوٹ: اس وضاحت کے بعد ادارے کی جانب سے 14″ نومبر 2025کو”  مذکورہ بالا  دونوں لکھاریوں کے علاوہ  نامناسب کمنٹس کرنے والے چار افراد کو  ادارے کے سوشل میڈیا  اکاؤنٹس ،  پیجز اور گروپس سے مستقل بلاک کردیا گیا ہے۔ ان تمام احباب کا اب ادارے سے کوئی تعلق باقی نہیں۔ان لکھاریوں کو آئندہ کیلئے مکتبہ کتاب دوست سے “بلیک لسٹ ” کر دیا گیا ہے۔ 

These writers have been placed on the “Blacklist” by Maktaba Kitab Dost.

black list writers

قارئین کی آگاہی کیلئے یہ آفیشل پوسٹ کی جا رہی ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت حوالے کے طور پر کام آسکے۔  
—–

شہزاد بشیر
(مصنف/ناشر(مکتبہ کتاب دوست

تاریخ : 14 نومبر 2025


Advertise

اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولزNimra Ahmed Novels عمیرہ احمد کے ناولزUmera Ahmed Novels اشتیاق احمد کے ناولزIshtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریزImran Seriesدیوتا سیریزDevta Seriesانسپکٹر جمشید سیریزInspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولزشہزاد بشیر کے ناولزShahzad Bashir Novelsنسیم حجازی کے ناولزNaseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine.You can support this website to grow and provide more stuff ! Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon