کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ کے تنازعہ کا منطقی نتیجہ

ڈسکلیمر (ادارہ :مکتبہ کتاب دوست)
یہ وضاحتی تحریر فیس بُک پر کی گئی اُس پوسٹ کے جواب میں پیش کی جا رہی ہے، جس میں بظاہر عمومی طور پر ایک ایوارڈ کے معاملے پر بات کی گئی، مگر اس کے متن اور اس پر کیے گئے کمنٹس میں واضح طور پر مکتبہ کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ 2024 کا ذکر موجود ہے۔ اس وجہ سے ادارے کے قارئین اور مصنفین میں پیدا ہونے والی تشویش کے ازالے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔ ادارے کا مقصد کسی فرد یا گروہ کی مخالفت نہیں بلکہ غلط فہمی کی اصلاح اور اپنی ساکھ کا تحفظ ہے۔ شکریہ۔
۔9 نومبر کو محترم ریحان خان صاحب کی جانب سے کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ 2024 کے حوالے سے ایک پوسٹ کی گئی، جس میں ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ ان کے دوست محترم بلال صادق صاحب کو ادارے نے ایوارڈ نہیں دیا، اور اس بنیاد پر ایوارڈ کی شفافیت پر سوال اٹھائے گئے۔

پوسٹ کے متن اور چند کمنٹس میں بعض ایوارڈ یافتہ مصنفین کے بارے میں بھی نامناسب جملے ظاہر ہوئے، جس سے مزید غلط فہمی پیدا ہوئی۔

پوسٹ کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بلال صادق صاحب کے ناول کو ایوارڈ ملنا چاہیے تھا۔
یہاں اصل حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
بلال صادق صاحب کا ناول “سازش کا قتل” دسمبر 2024 نہیں بلکہ “9 جنوری 2025” کو شائع ہوا تھا۔
یہ تاریخ ناول کے اندرونی صفحے پر موجود ہے اور ہر وہ قاری جس کے پاس یہ ناول ہے، بذاتِ خود اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔
قارئین کی سہولت کے لیے ناول “سازش کا قتل” کے اس صفحے کا عکس بھی اس پوسٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جس واضح تاریخ اشاعت 2025 لکھی ہے۔ جب کہ ریحان خان کے پروفائل پر اس پوسٹ میں لکھا گیا “دسمبر 2024” واضح ہے جو کہ درست نہیں۔ تصویر ملاحظہ کیجئے۔
ساتھ ہی 9 جنوری 2025 کو شہزاد بشیر کے پرسنل پروفائل میں اس ناول سمیت 4 اور ناول ملا کر کل 5 ناولوں کی اشاعت کا اعلان ایک تشہیری پوسٹ میں کیا گیا تھا۔ اس کا عکس شہزاد بشیر کے پروفائل سے لے کر منسلک کیاگیا ہے۔

9 ۔9نو جنوری کو ہی خود مصنف بلال صادق نے بھی اپنے فیس بک پروفائل میں وہ پوسٹ شیئر کی تھی جس میں “جنوری کے 5 ناول” صاف لکھا ہوا ہے اور ان پانچوں میں “سازش کا قتل” کا سرورق بھی شامل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ناول دراصل جنوری 2025 میں شائع ہوا تھا۔

چونکہ مکتبہ کتاب دوست رائٹرز ایوارڈ 2024 صرف 2022 تا 2024 کے دوران شائع ہونے والی کتابوں کے لیے مخصوص تھا، اس لیے 2025 میں شائع ہونے والی کوئی بھی کتاب اس فہرست میں شامل نہیں ہو سکتی۔
لہٰذا بلال صادق صاحب کے ناول کا اس سال کے ایوارڈ میں شامل نہ ہونا ایک منطقی اور طے شدہ بات تھی۔
پوسٹ میں اشاعت کی غلط تاریخ لکھے جانے کی وجہ سے قارئین میں غیر ضروری غلط فہمی پیدا ہوئی، اور چند احباب نے اس معلومات کو درست سمجھے بغیر اپنے جذباتی کمنٹس لکھے، یہ صورتِ حال غالباً تاریخ کی غلطی کے باعث پیدا ہوئی، جس سے غیر ارادی طور پر غلط فہمی پھیلی۔
مکتبہ کتاب دوست ہمیشہ اپنے پرانے اور نئے مصنفین کا احترام کرتا ہے، اور ہر اس غلط فہمی کی وضاحت کو ضروری سمجھتا ہے جس سے ادارے یا ادب کی فضاء متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔
ایوارڈز سو فیصد میرٹ، معیار اور مقررہ کرائٹیریا کے مطابق دیے گئے ہیں، اور آئندہ سال بھی یہی اصول اختیار کیا جائے گا۔
یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ بلال صادق اور ریحان خان، دونوں محترم احباب کو ان کے ناولوں کے مسودے اشاعت کے کچھ عرصے بعد باقاعدہ واپس کر دیے گئے تھے، جس کے بعد ان کے ناولوں کے حقوق اور ان کی اشاعت کے معاملات ان کے اپنے ہو چکے ہیں۔ ادارہ اس معاملے میں اب کسی قسم کا شراکت دار نہیں۔
امید ہے کہ یہ وضاحت تمام قارئین اور مصنفین کے لیے کافی ہوگی۔
چونکہ اس غلط فہمی اور غیر مصدقہ باتوں کی وجہ سے ادارے کی ساکھ اور بانی مصنف کی ذات پر اثر پڑا، دکھ کی گھڑی میں ادارے اور وابستہ افراد کے لیے یہ صورتِ حال باعثِ تشویش رہی، مخلص اور محبت کرنے والے قارئین بھی پریشان رہے۔ لہٰذا اب آئندہ کے لیے ادارہ متعلقہ مصنفین اور قارئین کے ساتھ اپنے ذاتی و اداراتی روابط اور تعلقات کے معاملات پر نظرِ ثانی کرنے کا حق رکھتا ہے۔
ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ اس پوسٹ کا مقصد غلطیوں کی نشاندہی اور تصحیح اور حقائق پیش کرنا ہے تاکہ قارئین و مصنفین کو درست معلومات ہوں اور ایوارڈ یا ادارے سے متعلق شفافیت پر سوالات کے جواب مل سکیں۔ یہ دونوں صاحبان اور دیگر لکھاری قابل احترام ہیں اور ہم دعا گو ہیں کہ مستقبل میں کامیاب رہیں اور ادبی کارواں چلتا رہے۔
قارئین کی دلچسپی اور وقت دینے کا بہت شکریہ۔
نوٹ: اس وضاحت کے بعد ادارے کی جانب سے 14″ نومبر 2025کو” مذکورہ بالا دونوں لکھاریوں کے علاوہ نامناسب کمنٹس کرنے والے چار افراد کو ادارے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ، پیجز اور گروپس سے مستقل بلاک کردیا گیا ہے۔ ان تمام احباب کا اب ادارے سے کوئی تعلق باقی نہیں۔ان لکھاریوں کو آئندہ کیلئے مکتبہ کتاب دوست سے “بلیک لسٹ ” کر دیا گیا ہے۔
These writers have been placed on the “Blacklist” by Maktaba Kitab Dost.

قارئین کی آگاہی کیلئے یہ آفیشل پوسٹ کی جا رہی ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت حوالے کے طور پر کام آسکے۔
—–
شہزاد بشیر
(مصنف/ناشر(مکتبہ کتاب دوست
تاریخ : 14 نومبر 2025
| Advertise |
![]() |
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine.You can support this website to grow and provide more stuff ! Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |



