ishtiaq ahmed death anniversary

Ishtiaq Ahmed In My View! An Informal Column on His Death Anniversary

Book Reviews Column Ishtiaq Ahmed اشتیاق احمد Kitab Dost Shahzad Bashir

  اشتیاق احمد – میری نظر میں ! یومِ وفات پر ایک “غیر رسمی کالم”
اشتیاق احمد کی ناول نگاری کے حیران کن پہلو!
اشتیاق احمد ایوارڈ یافتہ مصنف “شہزاد بشیر” کے قلم سے۔

  اپنی زندگی کا بھی پہلا اور اشتیاق احمد کا پہلا ناول 1983 میں “خون آلود خنجر” پڑھا۔ اور پھر اچانک جاسوسی ناولوں کا ایسا چسکا لگا کہ آج میں خود ایک جاسوسی ناول نگار ہوں۔ ناول نگاری میں 7 سیریز اور اب تک 60 ناولز لکھ چکا ہوں۔ گزشتہ سال 2024 کے اختتام تک میرے 50 پچاس ناول شائع ہو چکے تھے کیونکہ ہر ماہ چار اور کسی ماہ پانچ ناول بھی شائع کئے۔ جب کہ 2025 میں 10 ناول ہوئے کیونکہ مصروفیت کے باعث مواقع کم ملے۔ بہرحال ساڑھے تین سال میں پچاس ناول مکمل ہونے کے بعد چلڈرن لٹریری سوسائٹی کی جانب سے “اشتیاق احمد ایوارڈ برائے سال 2024” حاصل کیا۔ الحمدللہ۔

  اشتیاق احمد ہمارے آپ کے روحانی استاد ہیں جنہوں نے نسلوں کی تربیت کی۔ ہم ان کی سکھائی باتوں پر عمل کرکے ہی کامیاب ہوئے۔ میں نے ناول نگاری شروع کی تو مئی 2021 تا دسمبر 2023 تک 16 سولہ ناول شائع ہوئے تھے۔ اب دیکھئے کہ اپنے استاد اشتیاق احمد کے حوالے سے ایک چھوٹی سی سوچ نے کہاں پہنچا دیا؟ ایک چھوٹی سی سوچ یہ کہ
“وہ کس طرح ایک ماہ میں چار ناول لکھ لیتے ہیں؟”
یہ سوال میرے ذہن میں بچپن سے رہا مگر میں نے گزشتہ سال 2024 میں جب اپنے استاد کے اس پیٹرن کو فالو کیا تو نتیجہ الحمدللہ آپ کے سامنے ہے کہ 2024 میں جنوری تا دسمبر 34 ناولز لکھ ڈالے۔ تو کل ملا کر 50 ہوگئے۔ اب یہ تعداد 60 سے اوپر ہوگئی ہے ۔

  مگر میں نے کسی حد تک یہ جان لیا کہ اشتیاق احمد ہر ماہ چار ناول کس طرح لکھ پاتے ہونگے۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ تو بے حد مشکل کام رہا ہوگا مگر وہ جس طرح ہر ماہ لکھتے تھے تو حیرت ہوئی۔

  دیکھئے نا! تب تو قلم کاپی کا زمانہ تھا۔ اب کمپیوٹر کا دور ہے۔ یقین جانئے میں جب خود چار سے پانچ ناول ہر ماہ لکھتا تھا تو جتنی سہولیات حاصل تھیں اس کے باوجود بھی کمر اکڑ جاتی تھی۔ کندھے اور بازو شل ہوجاتے۔ لیپ ٹاپ پر لکھنے کے باعث کبھی کبھی کلائیاں درد کرتی تھیں کیونکہ میں اکثر ایک ہی نشست میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

  اب ذرا غور کیجئے کہ اشتیاق احمد تو اپنے تخت پر براجمان ہو کر قلم اور کاغذ کا استعمال کیا کرتے تھے۔ کتنی کاٹ پیٹ، کتنی سطروں کی نوک پلک درست اور کتنے مکالموں اور سچوئیشنز پر ان کا قلم لکھتا اور دہراتا ہوگا۔
مطلب یہاں تو لیپ ٹاپ پر پیراگراف سلیکٹ کیا یا ڈیلیٹ آل کی کمانڈ دی اور سب صاف۔ یا پھر “آن ڈو” کا استعمال کیا اور غلطی سدھار لی مگر بھئی۔۔۔ ان کو تو یہ سب سہولت میسر نہیں تھی۔ کتنا دھیان سے لکھتے ہوں گے اور پھر پرفیکشن۔۔۔ کہ صفحات اور سطور اور ابواب کو صحیح ترتیب میں رکھنا۔ سبحان اللہ۔

  اور یار ۔۔۔ میں انسپکٹر جرار سیریز لکھتا ہوں تو اس کے لئے ہر باب کا نام بھی تجویز کرنا پڑتا ہے۔ یقین جانئے دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں کہ باب کا عنوان کیا لکھا جائے۔ ناول کا نام تو بعد کی بات ہے۔ اور اشتیاق صاحب کے اگر ان تمام ناولوں کے صرف ابواب کے عنوان لکھے جائیں ۔۔۔ اف ۔۔۔ نہیں بھئی یہ بھی ایک باقاعدہ ایسا ریسرچ ورک ہے جس پر کوئی ایم فل یا پی ایچ ڈی مقالہ لکھا جا سکتا ہے اور باقاعدہ اگر شائع کئے جائیں تو ایک ضخیم ڈائرکٹری بن جائے گی کہ کس ناول کے ابواب کونسے ہیں۔

 بہت لکھا ہے بھئی بہت لکھا ہے اشتیاق احمد نے۔ اب شاید ہی کوئی اتنا لکھ سکے۔ میری تو سوچ کر ہی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا ان کی انگلی کی تکلیف کا معاملہ جس کا ذکر بھی وہ کرتے رہے اور کچھ کام میں خلل بھی آتا رہا۔ تو ظاہر ہے ایک انسان مسلسل سالوں دہائیوں لکھتا رہے تو تکلیف ہونا ممکن بات تھی۔ مگر پھر بھی وہ جاسوسی ادب میں تاریخ رقم کرگئے۔

  اشتیاق احمد کے وہ کردار جو خیالی ہو کر آج بھی حقیقی لگتے ہیں۔ مثبت کرداروں کے وہ مشہور مکالمے اور عادات و اطوار جو اس دور کے قارئین کو آج بھی وہی مزہ دیتے ہیں۔ اور تو اور ولن بھی مشہور ہیں۔ جیرال کی اصول پسندی، سی مون کی سمندروں پر حکومت، ابظال جو دکھائی نہیں دیتا، رے راٹا جو کار سے تیز دوڑتا ہے اور اسی طرح کے کتنے ہی ولن جو قارئین کو بھلائے نہیں بھولتے۔ کمال ہی کمال ہے یار۔۔۔ کس کردار کا ذکر کریں۔

  بھئی آفرین ہے ہمارے پسندیدہ استاد اشتیاق احمد پر کہ بچوں کے ادب میں 800 سے زائد ناول اور نہ جانے کتنی کہانیاں کالم اور کتنا کچھ جو ابھی سامنے نہیں آیا کیونکہ کام اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اب بھی خزانے کی طرح کھوجا جا رہا ہے اور سلام ہے ان تحقیق کاروں کو جنہوں نے ان کا کام تلاش کر کر کے شائع کیا اور مسلسل کر رہے ہیں۔ چاہے اٹلانٹس پبلیکیشنز ہو، انداز پبلکیشنز ہو یا بچوں کا کتاب گھر ہو یا آزاد تحقیق کرنے والے۔ سب داد کے حقدار ہیں۔

  ایسے تمام قارئین کو بھی شاباش ہے جنہوں نے اشتیاق احمد کے کلیکشن گھر کے کتب خانے میں خزانے کی طرح محفوظ کر رکھے ہیں۔ اور ان قارئین کے لئے میں تھمبز اپ کرتا ہوں کہ جو آج بھی ان کے ناول ڈھونڈ کر پڑھتے ہیں۔

  خصوصی شکریہ اور سلام ان قارئین و صارفین کو جو آج بھی اشتیاق احمد کے ناولوں کے بنڈل کے بنڈل ہمارے کتاب دوست بک اسٹور سے آرڈر کرکے ملک کے کونے کونے سے منگواتے ہیں اور بیرون ملک بھی منگوا کر پڑھتے ہیں۔ خاص کر جو بیرون ملک قارئین ہیں ان کے جذبات ہی الگ ہوتے ہیں جب وہ مجھ سے ناولوں اور اشتیاق احمد کے حوالے سے اپنے پاکستان میں گزارے سنہرے بچپن لڑکپن اور ناولوں کے لئے لائبریری یا اسٹال تک پہلے پہنچ کر ناول حاصل کرنے کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہیں اور مختلف واقعات سناتے ہیں۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی باقاعدہ آواز سے ان کی دلی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

  آج بھی کئی قارئین اپنے بچوں کے لئے اکٹھے ناول آرڈر کرتے ہیں اور بچے ان پر بعد میں مجھ سے معصوم معصوم فرمائیشیں کر تے ہیں۔ یہ بات بھی باعث فخر ہے خود ہمارے لئے کہ ہم بھی اشتیاق احمد کے ناول گھر گھر پہنچانے میں اپنا کردار اپنے آن لائن اسٹور اور واٹس ایپ گروپ سے ادا کر رہے ہیں۔

  سب سے بڑی بات کہ اس خاکسار کے ناول بھی اشتیاق احمد کے ناولوں کے ساتھ ساتھ قارئین کے گھروں میں پہنچتے ہیں تو یہ ایک بے حد اعزاز اور فخر کی بات ہے میرے لئے کہ اس ہستی کے ناولوں کے ساتھ میرے ناول پڑھے جائیں جن کو بچپن میں پڑھ کر اکثر خوابوں میں خود کو بھی ان کے کرداروں کی ٹیم میں شامل کیا ہوا تھا۔ بلکہ ایک خواب مجھے یاد ہے اور کئی بار آیا بھی۔ ناول ” سلاٹر کی واپسی” میں جو صحرا کی لڑائی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگی۔ جب ہیلی کاپٹرز تباہ ہونے کے بعد صحرا میں دشمن سے مقابلے ہوئے۔ اس میں کچھ دشمنوں سے تو میں بھی لڑا ہوں۔ بس نتیجہ مت پوچھئے گا۔ کہاں کہاں پڑیں۔ بتا نہیں پاؤں گا۔

  اور اسی لئے جب رہا نہ گیا تو اشتیاق احمد کو پیش کئے گئے خراج تحسین ناول “شعاعوں کا ہنگامہ ” میں اپنا بھی ایک کردار شامل کردیا اور میں قارئین کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ جنہوں نے بہت پسند کیا اور اسے شامل رکھنے کا اصرار کرتے ہیں۔ سب کے لئے دل سے دعائیں ہیں۔
یقیناََ آپ میں سے بھی نہ جانے کتنے ایسے ہونگے جنہوں نے ایسے ہی خوابوں میں خود کو ان کرداروں کے ساتھ شانہ بشانہ پایا ہوگا۔

 ہاہ۔۔۔ ہائے۔۔۔ وہ سنہرا دور ۔ بس کیا ہی کہیں اس بارے میں۔ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ آج اس استاد اور رہنما کا یومِ وفات ہے۔ یقین کیجئے ان کے لئے جس کالم کا میں نے کل اعلان کیا تھا یہ تحریر وہ نہیں ہے۔ وہ رسمی کالم کتاب دوست ویب سائٹ پر شائع ہوگا اور یہاں شیئر ہوگا۔ یہ تو بس ایک دو سطروں کی بات لکھنی مگر دیکھئے کمال کہ اشتیاق احمد کے بارے لکھتے ہوئے پتہ نہیں چلا کہ یہ بھی ایک طویل تحریر بن گئی ہے۔ اللہ اکبر۔

  چلئے یہ بھی میرے لئے باعث فخر ہے کہ ان کے لئے ایک نہیں دو کالم ہوجائیں گے۔ اللہ اشتیاق احمد کی کامل مغفرت فرمائے۔ ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
—–

تحریر پڑھنے کا شکریہ۔ اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں ضرور کیجئے۔ اللہ آپ سب قارئین کو سلامت رکھے۔ آمین۔

شہزاد بشیر
مصنف/ناشر
مکتبہ کتاب دوست
ویب سائٹ : https://shahzad.kitabdost.com
بک اسٹور : اشتیاق احمد کلیکشن : https://store.kitabdost.com
واٹس ایپ : 0307 2395447


Advertise

اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولزNimra Ahmed Novels عمیرہ احمد کے ناولزUmera Ahmed Novels اشتیاق احمد کے ناولزIshtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریزImran Seriesدیوتا سیریزDevta Seriesانسپکٹر جمشید سیریزInspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولزشہزاد بشیر کے ناولزShahzad Bashir Novelsنسیم حجازی کے ناولزNaseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine.You can support this website to grow and provide more stuff ! Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon