Sana Yousuf (Tiktok Girl) murder – A column by Shahzad Bashir Author
ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل
ایک چشم کشا تحریر – از: شہزاد بشیر
★ نوٹ: اس کالم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں عام معاملات پر بات کی ہے اور دوسرے حصے میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے حوالے سے معاملات کا تجزیہ کیا ہے لہٰذا پہلے اور دوسرے حصے کو آپس میں مدغم نہ کیجئے گا۔ الگ الگ پیرائے میں دیکھئے گا۔ پوسٹ مکمل پڑھ کر چند منٹ سوچئے پھر تہذیب کے دائرے میں رہ کر کمنٹ کیجئے گا۔ واضح رہے کہ یہ ایک مصنف کا تجزیہ ہے۔ اسے اسی حوالے سے پڑھئے۔ شکریہ
★ ایک اور قیمتی انسانی جان چلی گئی۔ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ میرے دوست اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کسی بھی عوامی ٹرینڈ کا حصہ نہیں بنتا نہ اس پر پوسٹ کرتا ہوں۔ بہت حساس معاملہ ہو اور ضروری ہو تو جب تک مصدقہ ذرائع سے نتیجہ خیز بات سامنے نہیں آتی تب تک کچھ نہیں لکھتا کہ نامکمل بات بتانا بھی بے ایمانی ہے اور اپنے قارئین کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
★ اب چونکہ اسلام آباد پولیس نے قاتل کو فوری تفتیش کے بعد گرفتار کر لیا ہے اور کافی حقائق سامنے آگئے ہیں۔ تو سب سے پہلے ان کی تعریف کروں گا کہ جس طرح بہت قلیل وقت میں ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے پروفیشنل انداز میں اصل قاتل تک پہنچے وہ لائق تحسین ہے۔ امید ہے قاتل کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ایک جاسوسی مصنف کے طور پر جب یہ معاملہ میرے سامنے آیا تو دلچسپی پیدا ہونا فطری بات تھی کیونکہ جاسوسی ناولوں میں جرائم، سراغ رسانی، تفتیش اور نتائج پیش کئے جاتے ہیں تو یہ تجسس تھا کہ قتل کا محرک کیا تھا اور قاتل کون ہے۔ پولیس نے کافی پھرتی دکھائی اور بہت جلد قاتل تک پہنچی جس میں پولیس کی مدد عام شہریوں نے اور خود مقتولہ کے جاننے والوں نے بھی کی جس سے یہ کام آسان ہوا۔ یہ قومی فریضہ بھی تھا اور تقاضہ بھی۔
★ دوستو ! اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری قوم بے حد جذباتی ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا سوئچ ہر قسم کے انسان کے ہاتھ آیا ہے چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا نہیں یا سمجھدار ہے یا بے وقوف ہے۔ وہ کسی بھی واقعے کا ایک رخ دیکھ کر سوئچ آن کرکے جو سمجھتا ہے اسے اپنے انداز سے صرف کاپی پیسٹ کرکے آگے بڑھا دیتا ہے۔ اس کے سامنے سوشل میڈیا پر جو آتا ہے وہ اسی کو لے کر افلاطون بن کر اپنا حصہ شامل کردیتا ہے۔ بات سمجھ آئے نہ آئے۔ تحقیق و تفتیش کے بعد نتیجے تک کا صبر کسی سے نہیں ہوتا۔ جو دل میں آیا سیلاب میں شامل ہو کر کہہ گئے۔ بعد میں چاہے شرمندگی سے جھینپ مٹا کر یا بغلیں جھانک کر پوسٹیں ڈیلیٹ ہی کیوں نہ کرنی پڑیں مگر جلد بازی لازمی کرتے ہیں۔
★ کہتے ہیں جلدی کا کام شیطان کا۔ وہ شیطان جو سوشل میڈیا پر اسی تاک میں رہتے ہیں کہ کسی عورت کی کوئی خبر آئے اور وہ سرعت سے اس کا تعلق مذہب یا مرد کے ساتھ جوڑ کر نفرت پھیلا سکیں۔ اس کیس میں بھی یہی ہوا۔ یہ ہمارے معاشرے میں چھپے وہ شکاری ہیں جن کا کام ہی یہی ہے کہ عورت سے متعلق ٹریجڈیز کو اسلام سے نتھی کیا جائے اور عام عوام کے ذہنوں میں اسلامی عقائد پر شک پیدا کیا جائے۔ ابھی خبر آئی نہیں کہ مرد کی غیرت اور غیرت کے نام پر قتل اور مذہب کی پابندی اور اسلامی شدت پسندی وغیرہ وغیرہ کی پوسٹیں دھڑا دھڑا چلنا شروع۔ افسوس کی بات یہ کہ ہمارے ادبی حلقے کے سمجھدار پڑھے لکھے خواتین و حضرات بھی بنا سوچے سمجھے ٹرینڈ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بعد میں خفت مٹانے کے لئے اونگے بونگے عذر یا وجوہات بتانے لگتے ہیں۔
★ اب دھیان سے سنئے۔
یہ سانحہ جیسے بھی ہوا اور جس نے بھی کیا اس سے قطع نظر چند بنیادی باتیں پہلے ذہن میں دہرا لیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ بچپن سے جوانی تک انسان پردے کے متعلق نہ جانے کتنی بار سنتا پڑھتا اور دیکھتا ہے۔ حیا اور پردہ بنیادی احکامات ہیں اس خدا کی طرف سے جس نے پیدا کیا اور جینے کا طریقہ اپنی کتاب و رسول اللہ کی سنت کے ذریعے بتایا۔
★ اب اس بات کو سامنے رکھئے۔ موجودہ دور فتنوں کا دور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ایک وقت وہ ہوگا جب انسان صبح مسلمان اور شام کو کافر ہوگا۔ ( کمی بیشی معاف) مطلب یہ کہ دین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اتنا مشکل بنا دیا جائے گا کہ سمجھ ہی نہیں رہے گی کہ ہم اصل میں کر کیا رہے ہیں۔ ایسے میں جو دین اسلام کو بنیاد سے پکڑے کھڑے ہونگے وہ فتنوں سے بچیں گے۔
★ آپ لوگ روزانہ سوشل میڈیا استعمال کر تے ہیں۔ آئے دن خواتین کی جانب سے جن میں باحیا پردہ دار خواتین بھی ہوتی ہیں اور پروفیشنل کام کرنے والی خواتین بھی جبکہ گھریلو خواتین بھی ہوتی ہیں۔ ان میں اسے اکثر اپنے انباکس میں مردوں کی بلاوجہ آمد اور گھٹیا سطحی فلمی لچرپن کی بیہودہ گفتگو کے اسکرین شاٹس لگاتی ہیں کہ دیکھئے خواتین کو کس طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ یہ واقعی خطرناک رحجان ہے۔
★ مائیں بہنیں بیٹیاں جو تعلیم کے لئے، کاروبار کے لئے، یا اپنے رشتہ داروں سے رابطے کے لئے سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ان میں سے شاید ہی کوئی خاتون ایسی ہوگی جس کو یہ مسئلہ درپیش نہ ہو۔ وہ نہ ٹک ٹاکر ہوتی ہیں، نہ یوٹیوبر نہ کوئی ڈانسر اور نہ گھٹیا گفتگو یا تصاویر اپ لوڈ کرنے والی۔
اب ذرا سوچئے کہ جب ان جیسی گھریلو خواتین کو ٹھرکی گھٹیا بیمار زہنیت کے جاہل گنوار یا پڑھے لکھے ہوس کے متلاشی مرد میسجز کرنا بند نہیں کرتے چاہے انہیں گالیاں ہی پڑ جائیں، تو ان خواتین کا کیا عالم ہو گا جو خود چاہتی ہیں کہ مرد ان کو فالو کریں۔ زیادہ سے زیادہ فالو کریں۔ چاہے کوئی بھی کسی بھی ذہنیت کا کسی بھی کردار کا کسی بھی طبقے کا کسی بھی نیچر کا کسی بھی قماش کا شریف یا بدمعاش انسان ہو۔۔۔ بس فالوورز بڑھانے سے مطلب ہے۔ اور تو اور راتوں رات شہرت اور پیسے کی طلب میں باقاعدہ ان دو نمبر لوگوں سے رابطہ کیا جاتا ہے جو مثبت یا منفی کسی بھی طریقے سے راتوں رات مشہور کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔
★ زیادہ پرانی بات نہیں ہے قارئین کو یاد ہوگا، کچھ عرصہ پہلے ہی لاہور کے مینار پاکستان پر لڑکی اور اس کے پروموٹر نے کس قدر بے حیائی کا ارتکاب کیا تھا اور ہجوم کو ہیجان میں مبتلا کر کے لڑکی کے کپڑے تار تار کرواکے کئی لوگوں کو گرفتار کروا کے راتوں رات شہرت حاصل کی گئی تھی۔ بعد میں ان ک عبرتناک انجام بھی سب نے دیکھا۔
★ یہ بھی ایک مافیا ہے۔ لڑکیوں کی تلاش میں رہنے والا ایسا مافیا جو انہیں سبز باغ دکھا کر راتوں رات لاکھوں فالوورز جمع کرنے کے نت نئے طریقے بتاتے ہیں۔ اور پھر انہیں فالوورز بیچے جاتے ہیں۔ جی ہاں آپ کو کتنے لاکھ یا ملین فالوورز چاہئے اپنے پروفائل میں؟ سب مل جائیں گے۔ آئے دن اس کے اشتہارات فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا فورمز پر دکھائی دیتے ہیں۔ اور تو اور آپ کو ای میلز میں بھی پیکجز بھیجے جاتے ہیں۔
★ دراصل آج کی دنیا میں مغرب نے محنت کی تذلیل کرنے کے لئے راتوں رات ملینئر بننے کا یہ شارٹ کٹ ایجاد کر لیا ہے۔ “اجی چھوڑیئے۔ کیوں صبح سے رات تک کتابوں میں سر کھپائیں۔ کیوں پندرہ بیس سال پڑھ کر انجینئر ڈاکٹر ٹیچر سائنسدان بزنس مین یا کوئی ہنرمند بنیں۔ دفع کریں جی۔ آئیے آپ کو ایسا طریقہ بتاتے ہیں جس میں نہ تعلیم کی ضرورت نہ پیسے خرچ کرنے کی نہ سالوں کی پڑھائی کی۔
★ بس ایک موبائل لیجئے میک اپ کیجئے۔ نوجوان نسل کو ٹارگٹ کیجئے۔ فیشن اپنائیے۔ مغربی فیشن کو ترجیح دیجئے۔ پھٹی جینز پہنئے۔ اعضائے مخصوصہ کی ڈھکے چھپے یا کھلے عام نمائش کیجئے۔ کچھ مرد کو لبھانے والی ادائیں آتی ہوں تو بہت خوب ورنہ ٹی وی چینلز پر صابن، فیس کریم، میک اپ وغیرہ کے مغربی انداز کے اشتہارات دیکھئے، یوٹیوب یا سوشل میڈیا سے ہی سیکھ لیجئے۔ بس اب ویڈیو بنائیے۔ ذو معنی باتیں کیجئے، ہیجان خیز گانوں پر لپسنگ کرتے ہوئے جسم تھرکائیے اور فلٹر، اینیمیشن اور میوزک دے کر پوسٹ کردیجئے۔ لیجئے جناب۔ میلینز میں ویوز۔ راتوں رات وائرل، پیسہ شہرت سب چند ہی دنوں کا کھیل۔ یہ سب کوئی اندازے یا قیاس آرائیاں یا سنی سنائی نہیں ہے۔ یہ سب حقیقت ہے۔ ہمارے اردگرد موجود ہے۔
★ سالا ایک ٹھمکا لڑکی کو راتوں رات پیسہ اور شہرت کی بلندی پر لے جاتا ہے جہاں کسی باحیا شریف گھرانے کی لڑکیوں کو ان کی بے چاری ماں کی برسوں کی دیکھ بھال، رکھ رکھاؤ، تربیت اور باپ کی برسوں حق حلال محنت کی خون پسینے کی کمائی کی تعلیم بھی نہیں پہنچا سکتی۔
★ ہماری بہنیں بیٹیاں بچیاں کیا سوچتی ہیں پھر۔ ہم کیا جھک مار رہے ہیں؟ علم کے حصول کی خاطر خون پسینہ ایک کئے ہوئے ہیں کہ معاشرے کو ہنرمند قابل انسان مل سکیں۔ مگر کیا ایک ڈانس ویڈیو یا ایک منٹ کی جنسی شہوت جگانی والی ریل کی مار ہے کامیابی؟ کیا اتنا ہی آسان شارٹ کٹ ہے یہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب اور سوشل میڈیا؟ شدید ذہنی انتشار اور فرسٹریشن میں مبتلا کرنے والی حقیقت ہے۔
★ مگر ایک بات کہوں گا ایمانداری سے۔ ان بہنوں بیٹیوں ماؤں سے کہ ان راتوں رات مشہور ہوتی خواتین کو یوں تو سب کچھ مل جاتا ہے کچھ وقت کے لئے مگر اس کے عوض ان سے بہت کچھ چھین بھی لیا جاتا ہے۔
جی ہاں۔ شرم حیا غیرت ایمان عبادات آخرت کی فکر۔ یہ قیمتی مال و متاع چھن جاتا ہے۔ مانو یا نہ مانو۔ تو میرا مشورہ یہی ہو گا کہ یہ جز وقتی شہرت و کامیابی ہوتی ہے۔ شارٹ کٹ انسان سے یہ سب چھین کر بالآخر اس منطقی انجام سے دوچار کرتا ہے جو آج آپ کے سامنے ہے۔
★ میری بات یاد رکھئے۔ “جسے راستہ بنانے کا فن آتا ہے اسے شارٹ کٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔” یہ شارٹ کٹ ان کی ضرورت ہوتا ہے جن میں ہمت نہیں ہوتی کہ مقابلہ کر سکیں۔ لمبے سفر کی ہمت کرنا بہت بڑی بات ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ “کامیابی کبھی رعائتی قیمت پر نہیں ملتی۔ اسکی پوری قیمت چکانی پڑتی ہے۔” اس لئے ہمت نہ ہارئیے۔
★ اب آجائیے معاشرے اور قانون کی طرف:
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں قتل کی وارداتیں روزمرہ کی “روٹین” ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا قانون کے رکھوالے کہتے ہیں اور عوام مانتی ہے پھر اسی کو بیانیہ بنا کر سوشل میڈیا پر بے حسی پھیلائی جاتی ہے کہ اتنا بڑا شہر ہے پندرہ بیس اموات تو نارمل ہیں۔
★ اچھا۔۔۔ ریکارڈز سے بھی ثابت ہے کہ قتل کی شرح خواتین کے مقابلے میں مردوں کی زیادہ ہے۔ مرد گھر سے باہر کسی بھی ضرورت سے نکلتا ہے اور قتل ہوتا ہے تو بس افسوس کر کے آگے بڑھ جانا کافی ہے۔ مگر اگر قتل کوئی ایسی عورت ہو جائے جس کا میڈیا یا سوشل میڈیا سے کوئی تعلق ہو اور بالخصوص خوبصورت آزاد منش مغرب سے متاثرہ اور لوگوں کو انٹرٹین کرنے والی ہو چاہے ڈانس کرے چاہے ذو معنی باتیں یا شہوت بھڑکاتی ادائیں دکھاتی ہو تو پھر ایک افسوس زدگان کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ ان میں کچھ نادان نا سمجھ لوگ اور کچھ اسلام دشمن اور دین سے بیزار لوگ کسی بھی طرح سے مذہبی رخ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
★ ہم آئے دن باپردہ خواتین مصنفین، یا آن لائن کام کرنے والی خواتین یا اساتذہ کے انباکس میں مردانہ چھچھور پن کی پوسٹس دیکھتے رہتے ہیں۔ سوچئے کہ اس معاشرے کے اندر پھیلایا جانے والا فحاشی کا زہر اس حد تک اثر کر چکا ہو کہ باپردہ مائیں بہنیں بیٹیاں بھی گھر سے باہر یا گھر میں اور انٹرنیٹ پر بھی محفوظ نہیں ہیں تو پھر ان خواتین کا کیا لیول ہوگا جن کے فالورز ہی ملینز میں ہیں۔ وہ کیا کیا نہیں کرتے ہونگے۔ انباکس میں یا پرائیویٹ چیٹ میں۔
★ وجہ کیا ہے؟ وجہ وہی کہ مردوں کو اس طرف لانے اور فحاشی کے دلدل میں اس حد تک دھکیلنے کا ٹرینڈ کہ وہ مقدس رشتوں پر بھی ہوس بھری نظریں ڈالیں وہ ان ہی جیسی مغرب زدہ خواتین کی وجہ سے ہے جو ایسے ڈریسز پہنتی ہیں کہ ستر نمایاں ہوں۔ ایسی ادائیں دکھاتی ہیں کہ شریفوں کے ذہن بھی شیطان کا گھر بنانے کی پوری کوشش کہلائے۔ مرد کو ایمان بچانا مشکل ہو جائے۔
★ اوپر سے جب ان آزاد خیال نکاح کی انکاری مردانہ دوستی میں حد سے گزرجانے کو لائف اسٹائل سمجھنے والی اور ایک وقت میں کئی کئی دوستیاں رکھنے والی خواتین سے جسمانی ہوس پوری نہ ہونے پر کوئی دشمنی نکال کر اغوا کر لے یا قتل کر ڈالے تو بجائے اس کے اسباب پر غور کرنے کے، سب سے پہلے ایک مخصوص ٹولا سوشل میڈیا پر مردوں کے خلاف مختلف حوالے گھڑ کر اپنی مخصوص ایجنڈے کو پروان چڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ مقصد فیملی روایات کو توڑنا جو مشرقی معاشرے کا حسن ہے۔ مغرب زدہ لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ مرد کے خلاف نفرت بھڑکانا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔
★ ابھی تفتیش بھی نہیں ہوئی ہوتی مگر الزام اپنی مرضی اور خیالات کے مطابق مردوں پر تھوپ کر وہ وہ بکواس اور خرافات بک دی جاتی ہے کہ اپنے اپنے گھر کے مرد بھی منہ چھپاتے پھریں۔
کبھی کبھی تو کچھ خواتین مردوں کی اس لیول پر جا کر برائی کرتی ہیں کہ لگتا ہے انہیں کسی مرد نے پیدا نہیں کیا بلکہ اگربتی کے پیکٹ سے نکلی ہیں۔
★ مرد لفظ سے نفرت پھیلانے کا ایجنڈا مغرب سے اس معاشرے میں ٹرانسفر ہوا ہے۔ اس گمراہ معاشرے سے جہاں مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی عام باتیں ہیں۔ جانوروں کی طرح جدھر مرضی منہ اٹھا کے انسانی تقدس کو روندنا کوئی جرم نہیں۔ سڑک ہو، دیوار ہو، کھیت ہو، جھاڑ ہو بس جہاں موڈ ہوا اپنی پیاس بجھائی اور نکل لئے۔ نکاح کے بجائے برسوں کی دوستیاں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بنے رہنا چاہے ناجائز بچے پیدا ہوجائیں۔ اب اسی کلچر کو یہاں پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ پہلے کبھی ہم نے یہ بریک اپ، گرل فرینڈ، ایکس، کرش وغیرہ جیسے الفاظ نہیں سنے تھے۔ مگر اب ایک چھوٹا بچہ بھی یہ جانتا ہے۔
★ ہمارا شتر بے مہار دجالی میڈیا اس کا ذمہ دار ہے۔ فحاشی و عریانی کو پھیلانے میں سب سے خطرناک کردار میڈیا کا ہے۔ اس والے سے میرا ناول “جواز” پڑھ سکتے ہیں۔ لنک ڈسکرپشن میں دے دونگا۔
★ اب یہی چیز یہاں لائی جا رہی ہے۔ موم بتی مافیا اور میرا جسم میری مرضی کا فلسفہ۔ جسے میڈیا میں بڑی شدومد سے عام کیا جا رہا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ایک مشہور اداکارہ کو لندن میں اپنے ہی “فینز’ پبلک میں سرعام “چھو” رہے تھے جس پر ایک واویلا مچایا گیا۔ خوب وائرل ہوئیں محترمہ۔ واہ کیا شرم و حیا ہے۔ اتنی پاک بی بی ہے جس کے ٹی وی کمرشلز، پاکستانی و انڈین فلمیں، ڈرامے، پبلک اپیرنس میں مغربی کھلے لباس تو کسی نے دیکھے ہی نہیں۔ جن اداکاراؤں کے جسموں کو میک اپ مین چہرے گردن اور گریبانوں تک میں ہاتھ ڈال کر پاؤڈر کریمیں لگاتے ہیں، فلم میں ہیرو کبھی نیچے کبھی اوپر چمٹا کے کس کے جما کے دبا کے بار بار ری ٹیک کرکے شوٹ کرتا ہو، ولن جس کو سین فلمانے کے لئے اداکاراؤں کے جسم کو کسی بھی جگہ سے ٹچ کرکے لاکھوں کروڑوں کی کمائی کا ذریعہ بناتا ہو اور پروڈیوسر ڈائریکٹر کی تو بات ہی چھوڑیں، کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ اس خاتون کا واویلا کہ مجھے چھو لیا گیا۔ کس کو بیوقوف بناتی ہو بی بی۔ شیر کے آگے گوشت کھلا پڑا ہو تو کھائے گا ہی۔ معاشرے کو فحش لباس میں گھٹیا ذومعنی ڈائیلاگ بول کر شہوت بھڑکاتے اشارے کرنے کے بعد یہ توقع کے وہ نظریں جھکائے اور عزت کرے کسی دیوانے کا خواب اور احمقوں کی جنت میں رہنے سے کم نہیں۔ پھر طعنے بھی مرد کو دیئے جاتے ہیں۔
★ بہرحال یہ بیک گراؤنڈ بتانا اس لئے ضروری ہے کہ اب جو قتل کا کیس سامنے آیا ہے اس کے اسباب سمجھنے میں آسانی ہو۔ اب واپس آتے ہیں ایک خوبصورت کم سن ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کی جانب۔ سچی بات ہے اس قتل کی خبر سے پہلے نہ کبھی اس کا نام سنا تھا نہ کبھی کوئی ویڈیو دیکھی تھی۔ اس کالم کے لئے چند ایک ویڈیوز اس بچی کی دیکھی ہیں۔ بظاہر ایک معقول پیاری لڑکی محسوس ہوئی۔ ہمارے بچوں کی عمر کی گڑیا جیسے دکھنے والی بچی۔ جس کے بارے میں اب یہ سنا جا رہا ہے کہ وہ تو بس ایک “کونٹنٹ کری ایٹر” تھی۔ جسے بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا۔
★ میں خود آئی ٹی کی فیلڈ سے ہوں تو کونٹنٹ کری ایٹر کا لفظ تجسسس جگا گیا۔ مجھے لگا کہ کچھ منفرد کام یا صلاحیت ہوسکتی ہے اس بچی کی۔ لیکن اس کی پہلی ہی ویڈیو میں جو پیغام سنا وہ بڑا عجیب لگا۔ نامناسب لگا۔ ثنا یوسف پیارے انداز میں ادائیں دکھاتے ہوئے کہتی ہے:
“لڑکو ! شادی کرنی ہے تو پٹھانی لڑکی سے کرو یا گلگتی سے”۔
★ اچھا ۔۔۔ اب یہاں بے باکی کا اظہار کیا گیا ہے۔ لڑکو ! مطلب براہ راست کنوارے لڑکوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ کنوارے لڑکے جو ابھی اسی کے ہم عمر ہونگے۔ پندرہ سولہ بیس سال یا چلئے پچیس سال۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے کہ جوانی کا جوش، آزادی، بلوغت کا احساس، لائف پارٹنر کی تلاش، کچھ بننے کچھ کرنے اور خود کو منوانے کی عمر۔ سیکھنے سکھانے سے ایک قدم آگے اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کا سہارا بننے کی عمر۔ آنکھوں میں نئے خواب اور مستقبل بنانے کی جستجو۔ ساتھ ہی ساتھ گرم خون۔
★ اور ایسے میں ایک خوبصورت لڑکی جو خود معصوم اور عمر کے اس حصے میں کہ جس میں صرف خواب پلکوں پر بسیرا کرتے ہوں۔ وہ لڑکوں سے اسے اس حد تک فری ہو کر باقاعدہ اپنی جانب اشارہ کر کے کہے کہ شادی کرنی ہے تو پٹھانی لڑکی سے یا گلگتی سے کرو۔ کیوں؟ اور اقوام میں لڑکیاں نہیں ہیں؟ یا کمتر ہیں حسن و خوبصورتی میں۔ گوری رنگت میں۔ چلئے اس کی بات بس ایک ہلکا پھلکا مذاق ہوگا۔ تو کیا یہ کونٹنٹ ہے جو وہ کری ایٹ کرتی رہی؟ اب سننے والے اور اسے دیکھنے والے اگر لاکھوں میں ہیں تو کس کس کے دل میں اس بچی کو ہمسفر بنانے کا خیال نہ آیا ہوگا۔ یا کس کس کے ذہن میں خباثت نہ جاگی ہوگی۔ یہ تو اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ اچھے برے ہر طرح کے فالورز ہونگے۔
★ اس میسج کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟ ایک نتیجہ تو صاف ظاہر ہو گیا۔ فیصل آباد کا لڑکا قاتل بن کر باقاعدہ منصوبہ بندی سے اس کے گھر تک جا پہنچا۔ مجھے پتہ نہیں لیکن میرا اندازہ ہے کہ وہ اسی قسم کے پیغامات سے لڑکی کی جانب اٹریکٹ ہوا ہوگا۔ کہا ہو گا کہ میں تم سے شادی کروں گا۔ یا شاید شادی کے بجائے دوستی، دوستی بھی وہی جو اب اس معاشرے میں ہوس کا کھیل بن چکی ہے۔ دوستی کیا ہو تی ہے لڑکے لڑکی کی؟ بکواس۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ صاف ستھری دوستی ۔۔۔ بکواس۔ اگر یہ جائز ہوتا تو اللہ اور اس کا رسول نکاح پر اتنا زور نہ دیتے۔ جس طرح پاک رزق کھانے کا کہا گیا ہے اسی طرح تعلقات بھی پاک رکھنے کا کہا گیا ہے۔
★ اب اس کونٹنٹ کری ایٹر بچی کا ایک اور کلپ دیکھا تو افسوسناک جھٹکا لگا۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ لنک یہاں شیئر کروں۔ صرف بتا دیتا ہوں کہ اس میں کیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک فاسٹ ٹریک گانے پر یہ بچی جسم لچکاتے ہوئے ( جو نامناسب ہے) ایک گانے کے بول پر تھرکتے ہوئے لپسنگ کر رہی ہے۔ جس کے بول مندرجہ ذیل ہیں۔
میں تو کب سے ہوں ریڈی تیار
پٹا لے سیاں مسڈ کال سے
★ جب ایک کنواری لڑکی خود یہ سر عام یہ دعوت دے رہی ہے تو ناسمجھ یا ہوشیار نوجوان یا بڑی عمر کے لوگ اسے کس نظر سے دیکھتے ہونگے۔ مطلب یار۔۔۔ کیا یہ کونٹنٹ کری ایشن ہے۔ کہاں ہے بھائی کونٹنٹ؟
ایک اور ویڈیو دیکھی جس مین وہ کسی مال میں کسی لڑکی کو انٹرویو دے رہی تھی موضوع وہاں بھی وہی تھا۔ لڑکے، شادی، محبت۔ معذرت کے ساتھ اسے میں کونٹنٹ کری ایٹر نہیں کہوں گا۔ انٹرٹینر کہہ سکتے ہیں ۔ کونٹنٹ کری ایٹر فیس بک پر سرچ کیجئے۔ آپ کو بہت سی محنتی ہنرمند خواتین و حضرات ملیں گے جن کے پروفائل اور جن کے پورٹ فولیو بتائیں گے کہ کونٹنٹ کری ایٹر کون ہوتا ہے۔
★ اب آپ خود سوچئے کہ مذکورہ بالا جملہ اور اس ذومعنی گانے کے بول پر تھرکتی لڑکی جب ویڈیو اپ لوڈ کرے گی اور اشارے اپنی جانب ہونگے تو سوچئے اس کے جو فالوورز ہیں، مجھے نہیں پتہ کتنے ہیں میلنز میں ہیں یا ٹریلینز میں، نہ میں نے اس کی کوئی پروفائل دیکھی ہے، نہ اس کا کوئی چینل۔ اس تعداد میں اکثریت مرد ہونگے۔ ان میں اکثریت حسن پرستوں، ہوس کے پجاری ٹھرکیوں کی ہوگی، آج ہمارے معاشرے میں پانچ سال کی بچی کا ریپ بھی ہو رہا ہے کہ نہیں؟ یہ تو جوان لڑکی تھی۔ کوئی بتائے مجھے کہ بے پردہ لڑکی کے پروفائل میں اس کی تصاویر ویڈیوز دیکھنے والے اور اس پر کمنٹ کرنے والے کتنے فرشتے صفت اور کتنے ہوس کے پجاری ہیں۔ یہ کوئی راکٹ سائنس ہے کیا؟ جائیے چیک کیجئے۔
★ اب ان ہزاروں لاکھوں میں سے نہ جانے کتنوں کے دماغ میں یہی ہوگا کہ یہ لڑکی بیوی بنے یا دوست بنے، جسمانی تعلق ہو یا صرف مذاق مستی چلتا رہے۔ انہی میں کئی ایسے نفسیاتی نوجوان ہونگے جو اس حد تک جانے کو تیار ہونگے کہ یہ نہ ملی تو خود کو ختم کرلیں گے یا اسے ہی ختم کر دیں گے۔ اور بالآخر ہوا بھی یہی۔ وہ لڑکا عمر نام کا۔ بار بار اس سے رابطہ کرتا رہا۔ جیسے کہ اسلام آباد پولیس نے بتایا۔ یہ اسے منع کرتی رہی۔
★ اب اس سے زیادہ افسوسناک حقیقت یہ کہ اس بچی کے جنازے میں فقط چالیس سے پچاس لوگ موجود تھے۔ کہاں گئے وہ لاکھوں فالوورز؟ یہی حقیقت ہے۔ ڈیجیٹل دنیا بس اتنی ہی ہے کہ لوگ تفریح چاہتے ہیں۔
★ اب دوبارہ ان ماؤں بہنوں بیٹیوں کی پوسٹیں پڑھئے جن کو ایسے لوگ تنگ کرتے ہیں اور وہ کن الفاظ میں منع کرتی ہیں۔ گالیاں تک دی جاتی ہیں۔ تو کیا ثنا یوسف نے پیار سے منع کیا ہوگا؟ صاف ظاہر ہے کہ اس نے سختی سے اور شاید غرور کے بول بول کر یا کچھ اس قسم کی سخت باتیں کی ہونگی جو اس نفسیاتی فرسٹریٹڈ قاتل عمر کی مردانگی پر تازیانے کی طرح لگی ہونگی۔ اس لڑکے کے بارے میں بھی سرچ کیا تو پتہ چلا کہ وہ بھی کوئی فرشتہ نہیں تھا۔ سارے جسم پر ٹیٹو بنوائے ہوئے ہیں۔ ہاتھوں کے انداز اور چین وغیرہ سے تو تاثر ملتا ہے کہ شاید وہ کسی خفیہ تنظیم کا ممبر ہے۔ ظاہر ہے شدت پسندی اس کے مزاج کا حصہ رہی ہوگی اور اس سے پہلے بھی نہ جانے کیا گل کھلا چکا ہوگا۔ وہ اب پولیس تفتیش کرکے اگلوائے گی۔
★ اب وہ درندہ صفت قاتل لڑکا کیسا ہے کتنا آزاد ہے اس کی نیچر کیا ہے اس پر گھر والوں کا کنٹرول تھا یا نہیں تھا۔ وہ پہلے اس قسم کی لڑکیوں سے روابط رکھتا تھا یا نہیں اور وہ اتنا نڈر اور طاقت کے نشے میں اندھا ہوگیا کہ فیصل آباد سے باقاعدہ ارادہ کرکے لڑکی کے گھر پہنچا اور اسے اندر بلا لیا گیا۔ یہ اہم بات ہے۔ ایسے کسی انجان بندے کو گھر کے اندر بلانا بھی شک پیدا کرتا ہے۔ یہ ان نڈر ڈھیٹ اور جرم پر آمادہ لڑکوں میں سے ایک ہو گا جو طاقت کے نشے میں گولی چلانا مردانگی اور ہیرو ازم سمجھتے ہیں۔ اس سے ایک اندازہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مجرم اس سے پہلے بھی گولیاں چلا چکا ہوگا اور جس طرح اس نے نقاب لگا کر چھپنے کی کوشش کی تو یہ عادی مجرم بھی ہو سکتا ہے۔
★ بہرحال ابھی تفتیش جاری ہوگی۔ کچھ مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ قاتل پکڑا جا چکا ہے مگر اس کے بعد جو ہوا وہ شرمناک ہے۔ سوشل میڈیا پر دے بحث پہ بحث، دے پوسٹوں پہ پوسٹیں۔ ایک طوفان کھڑا ہو گیا غیرت کے نام پر قتل، اگر مرد کو بھی قتل کیا جائے تو فلاں، ڈھمکاں، کیا ہے یہ سب؟ ارے بھئی پہلے نتیجے کا انتظآر تو کر لیتے۔ مذہب پر علماء پر اسلامی اقدار پر اپنے اندر کا غبار نکالنے سے پہلے ایک مرتبہ سوچ تو لیا ہوتا کہ اچانک وہ لڑکی ہنستی کھیلی منوں مٹی تلے جا دبی تو کسی کی بھی موت کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اگر روز قیامت آپ سے پوچھا گیا کہ بتاؤ بغیر تصدیق یا وجہ کے اللہ کے سب سے پیارے دین پر تمہمت کیوں لگائی؟ تو کیا جواب دینگے۔
★ برائے مہربانی ان سوشل میڈیا پر موجود اسلام مخالف دشمنوں کو پہچانئے۔ فوری سیلاب میں نہ بہہ جایا کریں۔ اللہ نے عقل دی ہے۔ قانونئ معاملات کا پہلے نتیجہ تو سامنے آنے دیا کریں۔ یہودی، نصرانی، قادیانی، غیر اسلامی تنظیمیں دن رات نوجوان نسل کو راہ سے بھٹکانے میں مصروف ہیں۔ اپنی بنیادیں اپنی جڑی اپنے دین سے مذہب سے اپنے وطن سے اپنی اقدار سے مضبوط کیجئے۔ یہ آندھیاں پیر اکھاڑنے آتی رہیں گی۔ ثابت قدم رہیں۔
★ آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خونِ ناحق بہایا گیا ہے۔ یہ بچی نادان تھی۔ ڈیجیٹل ورلڈ کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھی۔ پھولوں کی آڑ میں بیٹھے گدھ اسے دکھائی نہ دیئے۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے۔ شہرت اور پیسہ بنا کسی ہنر کے اور محنت کے مل جائے تو دماغ ساتویں آسمان پہ چلا ہی جاتا ہے۔
میں اس بچی کی تصاویر لگانا مناسب نہیں سمجھتا اور نہ لنک شیئر کرنا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔
★ میری دعا ہے کہ اللہ اس بچی کے گناہوں کو معاف فرمائے۔ اس کی کامل مغفرت فرمائے۔ دوسری بچیوں کو بیٹیوں کو بہنوں کو اس سے سبق اور ہدایت کی توفیق دے۔ اور قانون نافذ کرنے والوں کو توفیق دے کہ وہ ان اسلام دشمن مخفی طاقتوں کے ایجنڈوں کو تہس نہس کریں۔ قاتل پر لعنت ہو، امید ہے اس سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا ملے گی۔ یہی انجام ہے ایسے مکروہ فعل کا۔
★ یہ کالم کچھ طویل ہوگیا مگر ضروری تھا کہ جو ذہن میں ہے وہ آپ کے سامنے پیش کروں۔ قلم کی حرمت مدنظر رہتی ہے۔ آپ کا بہت شکریہ کہ اس پوسٹ کو آخر تک پڑھا۔ اس پوسٹ سے آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے وہ کمنٹ میں لکھئے تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ ہم خیال دوست کونسے اور کتنے ہیں۔ اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
| Advertise |
![]() |
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine.You can support this website to grow and provide more stuff ! Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |



