Kitab dost column

Babu Bhai Aur Ramzan Ka Bhikari بابوبھائی اور رمضان کا بھکاری – Kitab Dost Column 6

Column Comedy Kitab Dost Shahzad Bashir

Kitab Dost Column – Tanz o Mazah by Shahzad Bashir

Babu Bhai Aur Ramzan Ka Bhikari

Kitab Dost Column #6

by: Shahzad Bashir 

Babu Bhai Aur Ramzan Ka Bhikari – Kitab Dost Tanzo Mazah Column by Shahzad Bashir. A light comedy by two characters “Khwah Makhuwah & Bilawaja” talk on different social issues through comedy dialogues. Read and smile. Kitab Dost Column. 

بابو بھائی اور رمضان کا بھکاری 

شہزاد بشیر 

کتاب دوست طنزو مزاح کالم نمبر 6


خواہ مخواہ:  ”اے بھائی۔۔ اللہ کے نام پہ۔

بلاوجہ:  ”اے “ نہیں” بی“ ۔ بی فار بابوبھائی۔سمجھے؟

خواہ مخواہ:  ”اللہ کے نام پہ کچھ دے جا ۔ 

بلاوجہ:  ”سن ۔۔ اللہ کے نام پہ میں صرف لے سکتا ہوں۔ دے نہیں سکتا۔ مثلاََ۔۔ چندہ، صدقہ، کھال

خواہ مخواہ:  ”اے۔۔ دے جانا ۔ بابو کچھ ۔

بلاوجہ:  ”صرف بابو۔۔۔؟ اب نہیں دوں گا کچھ بھی۔ 

خواہ مخواہ:  ”کک۔۔ کیوں بابو۔۔کیا ہوا؟

بلاوجہ:  ”بھائی لگاﺅساتھ میں۔ ۔۔بابو بھائی۔ سمجھے ۔۔صرف بابو نہیں۔ لگتا ہے شہر میں نئے آئے ہو۔ کہاں کے ہو؟

خواہ مخواہ:  ”بابوبھائی۔ ۔۔میں تو ۔۔یہیں کا رہنے والا ہوں۔ کہیں سے نہیں آیا۔

بلاوجہ:  ”اچھا۔۔ اگر تو یہیں کا رہنے والا بھکاری ہے توپھر کہیں نہ کہیں تیری ہنڈا سوک ، وِ ٹز، مرسیڈیز یا لینڈ کروزر پارک ہوگی۔کیونکہ رمضان میں اس شہر میں آکر بھکاری لوگ سب سے زیادہ مال کماتے ہیں اور وہ بھی سو فیصد منافع کے ساتھ۔

خواہ مخواہ: ”ارے باپ رے۔ یہ تو میرا بھی باپ ہے۔“۔” او۔۔بابو بھائی۔۔۔ دے اللہ کے نام پہ۔ اللہ تیرا بھلا کرے گا۔

بلاوجہ:  ”وہ تو ٹھیک ہے ۔ مگر۔۔ بھلا میرا ہوگا ۔تو ۔۔۔تیرا کیا فائد ہ ہے اس میں ؟

خواہ مخواہ:  ”بابو ۔۔تیرا بھلا ہوگا تو میرا بھلا ہوگا نا۔

بلاوجہ: ”بھائی۔۔۔!!! بھائی لگا ساتھ میں۔۔۔نہیں تو کچھ بھی نہیں دونگا۔

خواہ مخواہ:  ”اوہ۔۔ ہاں ہاں بھائی ۔۔ بابوبھائی۔ اللہ تیرا بھلا کرے گا۔

بلاوجہ: ”ٹھیک ہے ۔جب اللہ بھلا کرے گا تو پھر دیکھیں گے ۔ کیا لینا دینا ہے۔

خواہ مخواہ:  ”اے۔۔ بابو بھائی۔ ابھی کچھ د ے نا۔ اللہ تجھے مالا مال کرے گا۔

بلاوجہ:  ” سچ بول۔۔ تیرا کیا فائدہ ہے اس میں ۔ مالا مال ہوگیا تو میں تجھے اس میں سے حصہ دوں گا کیا؟

خواہ مخواہ:  ”نن۔۔۔ سچ ہے ۔ اچھا۔۔ اللہ تیرا اور میرا بھلاکرے گا۔ اب ٹھیک ہے؟

بلاوجہ: ”ابے ۔۔ ٹھیک کے بچے۔ میرے ساتھ رشتہ داری بنا رہا ہے؟ کل کہے گا مکان میں حصہ بھی ہے میرا۔

خواہ مخواہ:  ”ارے میرے باپ۔۔ کچھ خیرات کر تا جا۔

بلاوجہ:  ”اوئے۔ ۔مجھ پر الزام۔۔۔۔باپ کیسے ہوگیا میں تیرا بے۔میری تو ابھی شادی نہیں ہوئی۔

خواہ مخواہ: ”اوہو۔۔۔ معاف کر دو۔۔ اللہ تمہاری شادی کروائے۔ چاند سی دلہن دے ۔

بلاوجہ:  ”ابے گدھے۔ چاند سی دلہن۔۔۔؟ یعنی بیوی نہ ہوئی چاند ہوئی ۔ جسے دیکھنے کا لائسنس دنیا کے ہر انسان کے پاس ہو۔ یعنی سب میری بیوی کو تاڑیں اور میں کچھ بھی نہ کہہ سکوں؟ اور رمضان اور عید پر لوگ اسے اچک اچک کر اور دوربینوں سے دیکھیں۔ حکومت کی اجازت سے ۔ جگہ جگہ گلی محلے میں اور تو اور ٹی وی پر بھی لوگ مجھے تپائیں کہ مبارک ہو ہمیں چاند نظر آگیا۔ اور وہ تو صرف دکھے گی بھی رات میں۔ دن میں میری خدمت کون کرے گا؟ جب چاہے گی بادلوں میں چھپ جائی گی۔ اور برسات کے موسم میں تو وہ نظر ہی نہیں آئے گی ۔ میں کیا اسے ڈھونڈتا ہی رہوں گا؟

خواہ مخواہ: ”اوہو۔۔کس سے پنگا لے لیا۔ہاں۔۔اچھا ۔۔چلو پھر اللہ آفتاب جیسی دلہن دے ۔

بلاوجہ:  ”ابے۔۔ تیری تو۔۔ دماغ خراب ہے کیا؟ میں صرف عورت سے شادی کروں گا۔میں مشرقی مرد ہوں۔اور اس جھگڑالو آفتاب سے تو میری ویسے ہی کٹّی ہے۔

خواہ مخواہ: ”ارے بابوبھائی۔۔۔ آفتاب۔۔ مطلب ۔۔ سورج ۔۔ مثال دی تھی میں نے تو۔ 

بلاوجہ: ”ابے ۔۔ جب تیرے پاس دینے کیلئے کچھ ہے تو پھر مانگ کیوں رہا ہے؟

خواہ مخواہ:  ”وہ۔ وہ ۔۔تو مثال تھی نا۔کوئی پیسے تھوڑی تھے۔ 

بلاوجہ: ”اچھا۔۔۔مثال دی تھی ۔ یعنی میں سورج جیسی دلہن لاﺅں۔ ابے جانتا بھی ہے ۔ 5,500 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اس کا۔ وہ۔۔کیا کہتے ہیں؟ حرارت۔ ہاں درجہ حرارت۔ میں اس کے قریب تو کیا ، ایک سو پچاس ملین کلومیٹر دور سے بس اس کے چکر ہی کاٹتا رہوں گا۔اور جاڑے کے موسم میں لوگ مجھے روک روک کر کہیں گے۔ بھیا سائیڈ پہ ہونا۔۔دھوپ آنے دو۔گرمی میں ہیٹ اسٹروک سے مروائے گا کیا؟

خواہ مخواہ:  ”کہاں پھنس گیا۔ کس سے مانگ لی بھیک؟

بلاوجہ: ”لو۔۔ کرلو۔۔مجھے جانتا نہیں ۔ بابو بھائی ہوں بابو بھائی۔پورا شہر جانتا ہے۔ اچھا اچھا۔ ۔ چل بتا کتنے دوں؟

خواہ مخواہ:  ”واہ۔۔ یہ ہوئی نا بات ۔۔بابوبھائی۔ 

بلاوجہ:  ”ابے ارسطو کے پتر۔۔ یعنی صرف یہ بات ہوئی؟ اور وہ جو پہلے اتنی چولیں ماریں وہ کیا تھا؟

خواہ مخواہ:  ”او بھائی۔۔ مجھے معاف کرو۔ 

بلاوجہ: ” او “ نہیں بی ۔۔بی فار بابو بھائی۔۔بابو۔۔ بابو لگاکر بات کرو۔ صرف بھائی کہا تو جان لے لوںگا۔

خواہ مخواہ:  ”ارے ۔۔کک۔۔ کیوں بھائی۔۔ بب بابو بھائی۔ 

بلاوجہ: ”ابے جانتا نہیں ۔۔ بڑے شہروں میں بھائی لوگ کیاکام کرتے ہیں؟اس لئے بابو بھائی پورا بول۔ 

خواہ مخواہ:  ”اچھا بابو بھائی پورا۔۔مم میرامطلب بابو بھائی۔ کچھ دینا ہے تو دو ۔۔۔ورنہ میری جان چھوڑو۔ 

بلاوجہ: ”ابے۔۔۔الزام لگاتا ہے مجھ پر۔ میں نے کہاں پکڑی ہے تیری جان؟ لگتا ہے مجھے ٹھگنے کا ارادہ ہے تیرا۔

خواہ مخواہ:  ”اوہ بھائی۔۔ میرا۔۔مطلب۔۔۔

بلاوجہ: ”بابو ۔۔ لگا ساتھ ۔۔ ساد ہ بھائی مت بول۔ سمجھایا نا تجھے ۔ بھیجے میں کچھ ہے کہ کرائے کیلئے خالی ہے؟

خواہ مخواہ:  ”او۔۔ میرے باپ کی توبہ۔ آئندہ جو کبھی یہاں آکربھیک مانگی۔

بلاوجہ: ”ابے گھامڑ ۔۔ باپ کے بجائے اپنے لئے توبہ کر۔۔بھیک تومانگ رہا ہے یا تیرا باپ؟ 

خواہ مخواہ:  ”جاﺅ بابا۔۔ معاف کردو۔

بلاوجہ:  ”معاف کردوں ؟ کس بات کی معافی؟اوئے کہیں تو نے میری پاکٹ تو نہیں مار لی؟

خواہ مخواہ:  ”ارے۔۔ بھائی۔۔ بابو بھائی۔ میرا پیچھا چھوڑو ۔

بلاوجہ:  ”اچھا۔۔ اب یہ الزام بھی لگا دیا۔ میں تیرا تعاقب کرتا ہوا یہاں آیا ہوں یا تو میرے پیچھے آیا ہے۔

خواہ مخواہ:  ”اوہ۔۔اوہ۔ کیا کروں ۔کہاں پھنسا دیا۔ یااللہ مجھے بچا لے۔

بلاوجہ: ”اوئے ۔ اللہ سے شکایت ۔ ؟ناشکرے کہیں کے۔ 

خواہ مخواہ:  ”اچھا سنو بابو بھائی۔۔ ایک بات سن لو ۔ وہ دیکھوتمہیں وہ کون بلا رہا ہے۔

بلاوجہ:  ”کک۔۔۔کون ۔۔کہاں؟

خواہ مخواہ:  ”بھاگو۔۔۔بچاﺅ۔۔۔ڈرائیور۔۔۔!!! گاڑی نکالو۔

★★★★★


Shahzad Bashir

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *