column 2 tanzomazah

Gustakhi Muaaf گستاخی معاف Tanz o Mazah Column 2

Column Kitab Dost Shahzad Bashir

طنزومزاح کالم نمبر 2: از۔شہزاد بشیر

“تھوڑے سے مشہور لوگ” 

چِت بھی میری پٹ بھی میری – کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

واضح رہے یہ تھوڑے سے مشہور لوگوں کا تذکرہ ہے آپ توماشاءاللہ بہت مشہور ہیں ! گستاخی معاف۔

 

خواہ مخواہ : نہ جانے کیوں ہم لوگ اپنی فطر ت کو سنبھال نہیں پاتے۔ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کتابیں نہیں پڑھی جاتیں؟

بلا وجہ : کیوں ؟

خواہ مخواہ : اسلئے کہ لکھنے والے کم ہوگئیے ہیں۔

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : کیونکہ کتابیں بکتی نہیں ہیں اس لئے اس پیشے کو لوگ کم اپناتے ہیں۔

بلا وجہ : کیوں ؟

خواہ مخواہ : کیونکہ انکم نہیں ہے آمدنی نہیں ہے۔ نئے لوگ کبھی اس پیشے میں دلچسپی نہیں لیتے

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : اور بھی وجوہات ہیں ۔

بلا وجہ : کیا؟

خواہ مخواہ : حوصلہ افزائی بہت کم ہوتی ہے۔

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : لوگ کتابوں کو سنجیدہ نہیں لیتے  چند تھوڑے سے مشہور ناموں والے لکھاریوں  کی وجہ سے۔

بلا وجہ : کیوں ؟

خواہ مخواہ : اسلئے کہ ان مشہور یا خود ساختہ لوگوں کی عجیب منطقیں ہیں۔

بلا وجہ : کیا؟

خواہ مخواہ : وہ نئے رائٹرز کو کم تر سمجھتے ہوئے طنز کرتے ہیں۔

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : شاید اپنی اجارہ داری رکھنے کیلئے۔ یا  پھر شاید اپنا حریف تصور کر کے۔

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : کیونکہ ان کے لہجوں کے طنز ان کی بات چیت میں، کالمز میں اور اب سوشل میڈیا پوسٹس میں واضح نظر آتے ہیں۔ نئے لکھنے والوں کی بظاہر حوصلہ افزائی مگر جہاں موقع ملے وہاں گھٹیا قسم کے طنز بھی ۔ عجب منافق لوگ ہیں۔

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : جانے کیا ارادے ہیں۔ کہتے ہیں اردو ادب میں لکھنے والے کم ہیں۔ پھر جب نئے لوگ لکھنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نہ جانے کون ہیں جو خود کو لکھاری سمجھتے ہیں ۔کریں تو کیا کریں آخر۔ 

بلا وجہ : کیوں؟

خواہ مخواہ : کیونکہ آج کے نئے لکھنے والے پبلشر کی لائنوں میں لگ کر اپنی کہانی کی اشاعت یا ردی کی ٹوکری کی نظر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے سیلف پبلشنگ کا راستہ اپناتے ہیں اور اپنی کتاب اپنے ہی پیسوں سے شائع کرواکر مارکیٹ میں لاتے ہیں۔

بلا وجہ : کیوں ؟

خواہ مخواہ : کیونکہ پچھلے ادوار کی طرح مہینوں یا سالوں انتظار کرنے اور پبلشرز کے دفتروں کے چکر لگالگا کر تھک ہار کر اس خیال کو دل سے نکا ل دینے کی کہانی ختم ہو اور نیا دور شروع ہو جس میں لوگوں کو کم از کم کچھ نیا پڑھنے کو تو ملے۔جیسے کہ مل بھی رہا ہے۔ لوگ سراہ بھی رہے ہیں اوراب یہی بات ان تھوڑے سےمشہور لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ 

بلا وجہ : کیا؟

خواہ مخواہ : جیسےسیلف پبلشنگ کے طریقے سے اپنے خود کے ناول خود انوسٹمنٹ کر کے شائع کروانا اور خود ہی فروخت کرنا۔ اب یہ بھی ذرا پرانے لکھنے والے اور تھوڑے بہت اللہ کی مہربانی سے مشہور ہوجانے والے مصنفین سے ہضم نہیں ہو رہا۔ کہتے ہیں کہ اصل مصنف وہ ہے جو پہلے کہانیاں لکھے ، پھر رسالوں یا اخبارات میں لکھے اس کے بعد اپنی کتاب چھپوائے۔ اب یہ تو وہی بات ہوئی کہ ڈائریکٹ سمارٹ فون استعمال کرے والے پہلے ٹیلی فون استعمال کریں پھر بٹنوں والا بلیک اینڈ وائٹ موبائل پھر بغیر کیمرے والے کلر موبائل پھر اس کے بعد اسمارٹ فون استعمال کرے تو ٹھیک ہے ورنہ ڈائریکٹ لیٹسٹ سمارٹ فون استعمال کرنے والاہر وہ شخص جاہل اناڑی یا شارٹ کٹ مارنے والا وغیرہ وغیرہ۔ 

بلا وجہ :  اچھا یہ کون کہتا ہے ؟

خواہ مخواہ :  وہی تھوڑے سے مشہور لوگ۔اب ان سے پوچھئے کہ کیا یہ اکثر لکھنے والے مصنفین کی آپ بیتیوں سے  ثابت نہیں ہو چکا کہ پبلشر بھی کئی بار اچھے مصنفین کو ٹرخا کر اپنے من پسند لوگوں کی کتب شائع کرتے رہےہیں۔ یہاں ہر طرح کے لوگ ہیں سارے غلط نہیں ہیں تو سارے سہی بھی نہیں ہیں۔  

بلا وجہ :  حیرت ہے۔

خواہ مخواہ : اب ایڈوانس دور ہے۔ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ہر چیز فاسٹ ہو گئی ہے۔ اگر اب سیلف پبلشنگ کا طریقہ رواج پا رہا ہے جس کو خود پبلشرز بھی بہتر خیال کرتے ہیں تو کیا حرج ہے کہ نئے لکھنے والے اس آپشن کا استعمال نہ کریں۔ اس میں آخر اتنی بے چینی اور تنگ نظری دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا نئے لکھنے والوں کے آنے سے آپ کی عزت پر یا کام پر کچھ حرف آرہا ہے؟ کیا کچھ ہلکا یا کم معیاری لکھنا اس سے بہتر نہیں کہ لکھا ہی نہ جائے۔

Something is better than nothing. بلا وجہ :  ہاں یہ تو ٹھیک ہے کہ کچھ نہ ہونے سے ہونا بہرحال بہترہے وہ انگریزی میں کہتے ہیں  نا کہ

اب کیا لکھنے والے حوصلہ ہار کر گھر بیٹھیں اور جو لکھنے والے لکھ رہے ہیں وہ دلبرداشتہ ہو کر لکھنا ہی چھوڑ دیں ؟ کیونکہ جب یہ ذرا (تھوڑے سے) مشہور مصنفین طنزیہ بلکہ زہر آلود لہجے میں مذاق بناتےہیں تو وہ چاہے کسی ایک کیلئے کہیں، پڑھنے والا خود پر لیتا ہے کہ شاید یہ اس کیلئے ہی کہا گیا یا پھر اس کیٹگری کے لئے کہا گیا ہے۔ 

واہ آج تو مجھے بھی تم سے اتفاق کرنا پڑ رہا ہے۔ تو تم ان کو سمجھاتے کیوں نہیں؟ 

خواہ مخواہ :سمجھایا ہے بھئی ۔ یہ بھی کہا  کہ جناب اگر اللہ نے آپ کو عزت عطا کی ہے تو کاہے کو نیچے دیکھتے ہو۔۔۔؟ اوپر دیکھو اور مزید عروج حاصل کرو۔ یہ نیچے والوں کو روکنے یا طنز کرکے اپنی عزت کا فالودہ کیوں کرواتے ہو؟ جو اوپر آئے گا اپنی محنت سے آئے گا۔ آپ سے پوچھ کے تو نہیں چلے گا ہر کوئی۔ اور آپ آخری تو نہیں ہیں ۔ اردو ادب بہتا سمندر ہے ۔ جسے اللہ نے عزت دینی ہوگی اسے ملے گی۔ جو غلط ہوگا وہ قدرت کے حکم سے باہرکردیا جائے گا۔ 

بلا وجہ :  درست ہے۔ وزن ہے بات میں ۔ کاش کہ یاروں کی سمجھ میں آئے۔ بقول ہمارے ایک بے حد مشہور پبلشر کے”زوال تو وہاں آتا ہے جہاں ہزاروں لکھنے والے ہوں اور کم ہو کر چن ہزار یا سو رہ جائیں۔ جہاں لکھنے والے ہی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہووہاں زوال کیسا” تو بھیا جیو اور جینے دو۔ کستاخی معاف۔ 

 


گزارش ہے کہ

آپ کو چاہئے کہ نئے لکھنے والے چاہے وہ رسالوں میں لکھ کر کتاب کی طرف آرہے ہوں یا ڈائریکٹ، ان کی اگر حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے تو ایسے طنزیہ فقرے یا جملے کسنا بند کریں ۔ میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں اپنی ویب سائٹ کے توسط سے نئے رائٹرز کو بلا معاوضہ سامنے لانے کے مشن پر ہوں اور اللہ کا شکر ہے کچھ نہ کچھ تو ایسا کیا ہے ۔ لیکن نئے رائٹرز مجھے یہ شکایات کرتے ہیں اور مجھے ان تھوڑے سے مشہور رائٹرز کے سوشل میڈیا ٹوٹے بھیجتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس بھی نکالتے ہیں ۔ یہ میرے کام کیلئے بھی رکاوٹ ہے اور اردو ادب میں نئے لوگوں کو لانے کی راہ کے روڑے ثابت ہو رہے ہیں۔ برائے مہربانی منافقت چھوڑیئے کیوں اپنے دامن کو داغدار کرتے ہیں۔ جو جیسا لکھتا ہے لکھنے دیں ۔ یہ فیصلہ بھی وہ قارئین کریں گے جو آپ کو پڑھ کر اس مقام تک لائے ہیں۔ ذرا اپنا وقت یاد کر کے ہی کسی کے ساتھ بھلائی کر لیں ۔ 

اور اگر اس مدعے پر جلن حسد قابو نہیں آتی تو پھر شکائت ان پبلشرز سے کریں جو نئے لوگوں کی کتابیں شائع کرتے ہیں۔ وہ نہ کریں تو اردو ادب واپس اسی نہج پر پہنچ جائے گا جہاں ٹیکنالوجی کے آنے سے پہلے کا  دور تھا۔ اور یہ یاد رکھئے کہ وہی پبلشرز آپ کی بھی تحریریں شائع کرتے ہیں تو کیجئے ان سے شکائت اور کر لیجئے اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین۔ شاید اسی سے آپ کو سکون ملے۔ 

Shahzad Bashir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *