aap betiyan book review by shahzad bashir

Aap Betiyan (Part 2) Naushad Adil – Mehbook Ilahi Makhmoor – KitabDost Book Review

Book Reviews

Aap Betiyan (Part 2) Book Review by Shahzad Bashir – (Author/Publisher at KitabDost)

Aap Betiyan (Part 2) Naushad Adil – Mehbook Ilahi Makhmoor –

KitabDost Book Review by Shahzad Bashir (Author/Publisher)

آپ بیتیاں ! حصہ دوئم

تبصرہ : شہزاد بشیر

(مصنف / پبلشر – مکتبہ کتاب دوست)

محبوب الٰہی مخمور + نوشاد عادل = تاریخی کارنامہ

آپ بیتیاں ۔۔۔ ! اس کتاب پر سوچا۔۔۔ بہت سوچا۔۔۔ پھر اور سوچا۔ کیا لکھ سکتا ہوں میں اس کتاب پر۔ تبصرہ تو بہت ہی ادنیٰ سا لفظ ہے۔ دریا کو کوزے میں بند کرنا؟ نہیں۔۔۔ سورج کو
چراغ دکھانا؟ ۔۔۔ شاید یہ بھی نہیں۔ چلئے میں جو دل کہتا ہے وہی لکھ دیتا ہوں۔ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
آپ بیتیاں کا دوسرا حصہ کافی دن سے میرے لیپ ٹاپ کے پاس موجود ہے۔
اگر میں غلط نہیں تو شاید ہی کسی نے ایک نشست میں یہ کتاب پوری پڑھی ہوگی۔ اگر آپ مجھے ایک لمحے کیلئے ادبی ڈاکٹر یا حکیم سمجھ لیں تو میرا مشورہ ہوگا کہ ایک نشست میں یہ کتاب پڑھنی بھی نہیں چاہئے۔ اس لئے کہ پھر میری ذاتی رائے میں آپ بہت سی ایسی چیز چھوڑ جائیں گے جو کہ غور طلب اور گہرا تاثر چھوڑ جانے والی ہیں۔
یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ابھی میں نے یہ کتاب پوری پڑھی نہیں ہے۔ لیکن چونکہ 12 جون کو تبصرہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لئے یہ پوسٹ لگانی ضروری تھی۔
دیکھئے۔۔۔۔ میں صاف گوئی سے کہتا ہوں کہ میزی ذاتی رائے میں اس کتاب میں شامل “تیس” آپ بیتیوں پر “ایک” پر ایک تبصرہ کرنا نہ صرف اس کتاب کے ساتھ ناانصافی ہوتا بلکہ ان
شخصیات کا بھی پورا احاطہ نہ کرنا قارئین کے ساتھ ناانصافی کہلاتا جو میرے تبصرے پڑھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔
اب میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کتاب کی ہر شخصیت پر علیحدہ علیحدہ سے ایک پوسٹ کروں گا۔ تاکہ اس میں اپنی پوری بات بھی کہہ سکوں اور متعلقہ شخصیت کے بارے میں جو کچھ
بھی سمجھ پایا ہوں وہ بھی اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرسکوں۔ اپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں ؟ کمنٹ کر کے بتائیے گا۔
ابھی میں صرف اس کتاب کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں شخصیات پر اس کے بعد لکھوں گا۔
تو جناب ۔۔۔ میں نے جب اس کتاب کی تشہیری پوسٹیں فیس بک پر دیکھیں تو اس وقت محبوب الٰہی بھائی اور نوشاد عادل سے ذاتی تعلق ایک قاری تک کا ہی تھا۔ نوشاد عادل کو تو خیر پہلے سے ادبی حوالے سے جانتا تھا مگر محبوب بھائی سے تعارف اپ بیتیاں کے حوالے سے ہی ہوا اس لیئے یہ کتاب رشتے جوڑنے والی کتاب بھی کہی جا سکتی ہےکہ اس کی وجہ سے کئی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے۔
اور ۔۔۔ یار ۔۔ کیا کمال ہے کہ اتنی دور کی کوڑی لائے۔ اس کتاب کو آنے والی نسلوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا۔ یہ تو صرف سوچ ہی ایسی منفرد ہے کہ اس کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔ زندہ قومیں اپنی نسلوں کی ذہنی نشونما کے لئے نہ جانے کیا کیا کرتی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں وہ نظر بھی آرہا ہے۔
مجھے ایک روز ایک بات پر نوشاد عادل نے کچھ کہا تو میں نے جذباتی ہو کر ان سے کہا کہ یار ۔۔ ہم لوگ کیا ہیں کہ کسی کے کام کو نہیں دیکھتے بس اپنے آپ کو دیکھتے ہیں۔ یہ اس لئے کہا کہ میرے خیال میں جس مقام پر نوشاد اور محبوب الٰہی مخمور ہیں ہر چند کہ وہ بہت بہت بلند مقام ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ کے حقدار ہیں یہ دونوں صاحبان۔
ہم یہ تو روتے ہیں کہ سرکاری سطح پر کوئی پزیرائی نہیں ملتی۔ مگر جو پذیرائی خود دے سکتے ہیں اس میں بھی تو دیکھنا چاہئے نا کہ وہ انصاف ہے کہ نہیں۔
اب اس کتاب کو لیجئے۔ آپ بیتیاں ۔۔۔ تیس بلند پایہ اردو ادب کے روشن ستارے جن میں سے کچھ اپنا کام کرکے نسلوں کے لئے اپنی یاد اور نام چھوڑ گئے مگر آب و تاب ان کی ایس ہے کہ ہمیشہ ادب کے آسمان پر نظر آتے رہیں گے۔ اور ان کے علاوہ جو موجود ہیں ۔۔ جو ہمارے درمیان ہیں۔ کیا ہم انہیں ان کا صحیح مقام دے رہے ہیں؟ یہ سوال خود سے کرنے والا ہے۔ کیا ضروری ہے کہ جانے کے بعد ہی بندے کو یاد کیا جائے؟ زندگی میں ہی قدر کیوں نہ کرلی جائے۔ ابھی میں کسی ایک کا نام نہیں لوں گا۔ کیونکہ سب ہی قابل احترام ہیں تبھی تو کتاب میں نام شامل ہے۔
آپ بیتیاں کیا ہے؟ یہ سوچئے کہ ایک عام سا انسان بھی کچھ منفرد کام کرتا نطر آئے تو ہم متجسس ہو کر پوچھتے ہیں کہ یار ۔۔۔یہ کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ اس نے یہ کارنامہ کیسے دکھا دیا؟ اس کی تاریخ کیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
تو ذرا سوچئے کہ وہ عظیم مصنف جن کے قلم نے سونا اگلا۔۔ نسلوں کو اپنے علم و فن سے بہرہ مند کر گیا۔ ہم پچپن سے پڑھتے آرہے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ کتاب لکھنے والے کیسے اور کن حالات سے گزرے یا گزر رہے ہیں۔ تو جب ایک ہی شخصیت کے بارے میں جاننے کیلئے ایک عرصہ، مشکلات، کھوج، تحقیق و جستجو کرنی پڑے تو انسان کتنوں کے پیچھے جائے گا؟
تو یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ یہ صرف کتاب نہیں بلکہ ریکارڈ ہے۔ تاریخ ہے۔ داستان ہے۔ انکشافات و راز سے بھرا خزانہ ہے۔ سیکھنے کیلئے مکتب ہے ہر شخصیت۔
میں نے اپنے پسندیدہ مصنف “نسیم حجازی” کی کتب تو پڑھ رکھی تھیں اور ایک عرصے سے ان کا مداح بھی ہوں مگر ان کا نام “محمد شریف” تھا اور قلمی نام “نسیم حجازی” جس کا مطلب حجاز کی خوشبو یا ہوا” یہ مجھے اس کتاب سے معلوم ہوا۔ یہ ایک مثال اس وقت میں دے کر کہتا ہوں کہ اس کتاب میں خزانہ چھپا ہے۔ اسے احتیاط سے غور سے پڑھنا ہوگا۔ میں ان شاء اللہ اس کتاب پر گاہے بگاہے ایک ایک شخصیات کی آپ بیتی پر تبصرہ کروں گا۔ اسے آپ میرا تبصروں کا نیا سلسلہ کہہ لیں۔ میں اور بھی سلسلے چلا رہا ہوں تو ساتھ ایک یہ بھی سہی۔ کیا خیال ہے اپ کا ؟ ?
محبوب الٰہی مخمور بھائی اور نوشاد عادل سے بھی یہی کہتا ہوں کہ انہوں نے جو کام کیا ہے میں ایک پوسٹ میں اس کا احاطہ کرنے کا بالکل بھی اہل نہیں اس کیلئے بھی ایک سلسلہ درکار ہے۔ ابھی تو فقط اتنا کہہ سکتا ہوں کہ آپ دونوں کے اس عظیم کارنامے پر آپ کو شہزاد بشیر کا سلام ہو۔ خوش رہئے سلامت رہئے ۔ اور ادب کے آسمان پر روشنی پھیلاتے رہئے ۔ آمین
Shahzad Bashir
مصنف/ پبلشر/بلاگر 
مکتبہ کتاب دوست

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *