
★ آج میں جس اعلیٰ ادبی شخصیت کے بارے میں لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ان کا نام ہی نہیں ان کی شخصیت ان کا انداز اور ان کی ادبی خدمت اور خاص طور پر ایک ایسی ادبی صنفِ سخن جس کو بلاشبہ پاکستان میں انہوں نے نہ صرف زندہ کیا بلکہ اس کی آبیاری اپنے بھرپور وقت، محنت، جذبے اور لگن کے علاوہ جدید دور کی ٹیکنیک سے بھی کرتے آرہے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے سینکڑوں لکھاریوں کو اس گمشدہ صنفِ سخن کی جانب متوجہ کیا جس کا شاید کئی کو علم بھی نہ تھا۔
وہ صنف ہندوستان میں معروف تھی اور ہندستان کے ادباء کا یہ کہنا کہ پاکستان میں اس صنف پر لکھنے والے نہیں، اب غلط ثابت ہوچکا ہے۔ ماشاء اللہ بہت سے لکھنے والے اب اس جانب بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور ان کا کام سامنے آرہا ہے۔ جسے قارئین بھی سراہ رہے ہیں۔
اتنی تمہید کے اب میں جناب پرویز بلگرامی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہی وہ اعلیٰ ادبی شخصیت ہیں جو نہ صرف “افسانچہ” جیسے صنف سخن کو جو منٹو کے افسانچوں کی وجہ سے بہت مشہور و مقبول رہی مگر پاکستان میں گمنام ہوتی جارہی تھی اسے جناب پرویز بلگرامی صاحب نے بروقت تھاما ، اسے پروان چڑھایا اور اب ماشاء اللہ سینکڑوں معتبر و مشہور نام افسانچہ نگاروں کے سامنے آچکے ہیں۔
میری ملاقات جناب پرویز بلگرامی سے انٹرنیشنل بک فیئر 2021 میں ایکسپو سینٹر کراچی کے کیفے ٹیریا میں ہوئی تھی۔ اس وقت میرے تین ناول شائع ہوئے تھے۔ پرویز صاحب نے بڑی محبت سے نہ صرف استقبال کیا بلکہ چائے پیش کی جو آج تک مجھے یاد ہے۔ پرویز صاحب سیاہ شیروانی و ٹوپی میں بہترین ادبی شخصیت کے طور پر دل میں گھر کر گئے۔
پھر ان سے فیس بک پر باقاعدہ رابطہ ہوا اور انہوں نے فوراََ خاکسار کو افسانچے کے حوالے سے آگاہ کیا اور واقعی میں اس سے پہلے افسانے سے تو واقف تھا مگر افسانچہ میرے لئے نہ صرف نیا لفظ بلکہ نئی صنف تھا۔
اس سے پہلے سوشل میڈیا پر چند مختصر تحاریر لکھ چکا تھا مگر افسانچے سے متعارف کرنے والے پرویز بلگرامی صاحب ہی ہیں۔ افسانچہ نگاری کے اسرار رموز انہوں نے ہی سکھائے اور بطور استاد اس ناچیز سے افسانچے لکھوائے بھی۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ایسا بھی ہوا کہ میں اپنے دوسرے ادبی کاموں میں مصروف ہوا تو بلگرامی صاحب نے میسج کرکے افسانچہ لکھنے کا کہا اور یوں یہ سلسلہ گاہے بگاہے جاری رہا۔
بات اگر اتنی بھی ہو تو کافی ہے مگر ایسا نہیں ہے، پرویز صاحب نہ صرف افسانچہ لکھواتے ہیں، بلکہ اصلاح بھی فرماتے ہیں اور پھر خود ہی اپنے طور پر اس کو ویڈیو فارمیٹ میں یوٹیوب پر پوسٹ بھی کرتےہیں۔ یہ ہے وہ کام جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ظاہر ہے عمر کے بھی تقاضے ہوتے ہیں اور اس عمر میں جتنی محنت محترم پرویز بلگرامی صاحب کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ نوجوانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر عمر کے ادیبوں کیلئے مثال ہے۔ سوشل میڈیا پھر بھی ہر افسانچے کو پوسٹ کرتے ہیں۔
دنیائے افسانچہ کے نام سے پرویز صاحب کا سوشل میڈیا گروپ ہے جہاں نئے سیکھنے والے ان سے سیکھ بھی سکتے ہیں اور وہاں موجود دیگر افسانچہ نگاروں کو اپنی کاوش پیش بھی کرسکتےہیں جس پر مختلف آراء سامنے آتی ہیں تو سیکھنے کو ملتا ہے۔
سال 2023 میں دنیائے افسانچہ گروپ میں افسانچہ نگاری کا مقابلہ کروایا گیا تھا جس میں راقم نے اول انعام حاصل کیا تھا۔ اس میں 300 کے قریب افسانچے موصول ہوئے تھے اور ان میں سے بہترین کو چنا گیا تھا۔ یہ ایک بہترین کاوش تھی اور بہت سے نئے لکھنے والے اس میں شامل ہوئے۔
اسی طرح خود راقم نے سال 2023 میں پرویز بلگرامی صاحب کے ساتھ مل کر کتاب دوست اور دنیائے افسانچہ کی جانب سے مشترکہ افسانچہ نگاری مقابلہ کتاب دوست گروپ میں منعقد کروایا تھا جس میں منصفی کے فرائض کئی نام ور ادبی شخصیات و افسانچہ نگاروں نے کی تھی۔
آج کے اس مصروف ترین دور میں جہاں ہر انسان اپنی جنگ لڑ رہا ہے، پرویز بلگرامی جیسی ادبی شخصیات کا ہونا باعث رحمت ہے کہ جو دوسروں کیلئے اپنا قیمتی وقت، اپنا تجربہ، اپنا خلوص اور پیار نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔
خاکسار کے ساتھ بھی پرویز صاحب کا دلی رابطہ ہے اور حالیہ بک فیئر مئی 2026 میں انہوں نے فون کر کے پہنچنے کا کہا سو میں دیگر اور دوستوں کے علاوہ خصوصی طور پر پرویز صاحب سے ملاقات کیلئے پہنچ گیا۔ بہت ملنسار اور مخلص انسان ہیں۔ نہ جانے کتنے ادباء اور افسانچہ نگار ان کی بدولت آج نام بنا چکے ہیں۔
افسانچہ نگاری کے علاوہ ان کی مصروفیت اور انتھک محنت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ماہنامہ “سرگزشت” ڈائجسٹ کے مدیر بھی ہیں اور یہ ایک الگ کام ہے کہ وہ بہترین تحاریر کو منتخب کرکے اپنے زیرِ ادارت شائع کرتے ہیں۔ سرگزشت ڈائجسٹ اردو ادب میں اعلیٰ معیار ڈائجسٹس میں سرفہرست ہے اور پرویز صاحب کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ویکی پیڈیا پر جائیں تو پرویز بلگرامی صاحب کے عمدہ اعلیٰ مشہور و معروف ناولون کی طویل فہرست دکھائی دیتی ہے۔ بے حد مقبول مصنف ہیں اور آج بھی قارئین اسی جوش و جذبے سے انہیں پڑھتے ہیں۔
ان کے بارے میں انتا کچھ لکھا جا سکتا ہے کہ شاید صفحات ختم ہوجائیں مگر میں اس دعا کے ساتھ یہ خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ انہیں صحت و تندرستی والی عمرِ دراز عطا فرمائے۔ اردو ادب کے آسمان پر چمکتے دمکتے رہیں اور ان کا سایہ مجھ پر اور مجھ جیسے بہت سے دوسرے لکھاریوں کے سر پر قائم رہے۔ آمین۔
تحریر : شہزاد بشیر
مصنف/ناشر/کالم نویس
https://shahzadbashirofficial.com
| Advertise |
![]() |
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine.You can support this website to grow and provide more stuff ! Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


